تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 112

وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرۡیَۃً کَانَتۡ اٰمِنَۃً مُّطۡمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزۡقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الۡجُوۡعِ وَ الۡخَوۡفِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾
اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی ، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا
En
اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزه چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس بستی سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جو امن کا گہوارہ اور اطمینان کی جگہ تھی، اس بستی میں کسی کو پریشان نہیں کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے جہلاء بھی اس کا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ اس بستی میں کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھتا تو اس کا جذبۂ انتقام جوش نہیں مارتا تھا، حالانکہ ان میں عربی حمیت و تکبر بہت زیادہ تھا۔ مگر مکہ مکرمہ میں کامل امن تھا جو کسی اور شہر میں نہ تھا۔ اسی طرح اس کو کشادہ رزق سے بھی نوازا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ ایسا شہر تھا جہاں کھیتیاں تھیں نہ باغات بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رزق کو آسان کر دیا تھا، ہر سمت سے ان کو رزق پہنچتا تھا۔ پس ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا، جس کی صداقت اور امانت کو وہ خوب جانتے تھے جو انھیں کامل ترین امور کی طرف دعوت دیتا تھا اور انھیں بری باتوں سے روکتا تھا۔ مگر انھوں نے اسے جھٹلایا اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو امن و اطمینان کے برعکس بدامنی کا مزہ چکھایا، انھیں بھوک کا لباس پہنا دیا جو خوشحالی کی ضد ہے اور ان پر خوف طاری کر دیا جو امن کی ضد ہے۔ یہ سب ان کی بداعمالیوں، ان کے کفر اور ان کی ناشکری کی پاداش میں تھا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؔ (النحل: 16؍33) اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه القرية هي مكَّة المشرَّفة التي كانت آمنةً مطمئنةً لا يُهاج فيها أحدٌ، وتحترِمها الجاهليَّةُ الجَهْلاءُ، حتى إنَّ أحدهم يجد قاتلَ أبيه وأخيه فلا يَهيجُهُ مع شدَّة الحميَّة فيهم والنعرة العربيَّة، فحصل لها من الأمن التامِّ ما لم يحصلْ لسواها، وكذلك الرزق الواسع، كانت بلدة ليس فيها زرعٌ ولا شجرٌ، ولكنْ يسَّرَ الله لها الرزقَ يأتيها من كلِّ مكان، فجاءهم رسولٌ منهم يعرِفون أمانته وصدقَه؛ يدعُوهم إلى أكمل الأمور، وينهاهم عن الأمور السيِّئة، فكذَّبوه وكفروا بنعمة الله عليهم، فأذاقهم الله ضدَّ ما كانوا فيه، وألبسهم {لباس الجوع} الذي هو ضدُّ الرَّغَدِ، {والخوفِ} الذي هو ضدُّ الأمن، وذلك بسبب صنيعهم وكفرِهم وعدم شُكْرِهم، وما ظَلَمَهُمُ الله ولكنْ كانوا أنفسَهم يظلمِونَ.