ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 111

یَوۡمَ تَاۡتِیۡ کُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِہَا وَ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
جس دن ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اپنی طرف سے جھگڑ رہا ہو گا اور ہر شخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ En
جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا
En
جس دن ہر شخص اپنی ذات کے لیے لڑتا جھگڑتا آئے اور ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر (مطلقاً) ﻇلم نہ کیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت11) ➊ { يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے غفور و رحیم ہے اس دن جب…۔
➋ {تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى …:} یعنی اس دن ہر مرد و عورت صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں ہو گا، نہ اسے کسی کی فکر ہو گی نہ کسی کو اس کی۔ ہر ایک بس اپنی ذات کے دفاع کے لیے بحث اور عذر بہانے کر رہا ہو گا، پھر ہر ایک نے جو کیا اسے اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا، کسی پر ظلم نہ ہو گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

111۔ 1 یعنی کوئی اور کسی حمایت میں آگے نہیں آئے گا نہ باپ، نہ بھائی، نہ بیٹا نہ بیوی نہ کوئی اور۔ بلکہ ایک دوسرے سے بھاگیں گے۔ بھائی بھائی سے، بیٹے ماں باپ سے، خاوند بیوی سے بھاگے گا۔ ہر شخص کو صرف اپنی فکر ہوگی جو اسے دوسرے سے بےپروا کر دے گی۔ " لکل امرء منھم یومئذ شأن یغنیہ " ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسا مشغلہ ہوگا جو اسے مشغول رکھنے کیلیے کافی ہوگا۔ 111۔ 2 یعنی نیکی کے ثواب میں کمی کردی جائے اور برائی کے بدلے میں زیادتی کردی جائے۔ ایسا نہیں ہوگا کسی پر ادنیٰ سا ظلم بھی نہیں ہوگا۔ برائی کا اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا کسی برائی کا ہوگا۔ البتہ نیکی کی جزا اللہ تعالیٰ خوب بڑھا چڑھا کر دے گا اور یہ اس کے فضل وکرم کا مظاہرہ ہوگا جو قیامت والے دن اہل ایمان کے لئے ہوگا۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

111۔ جس دن ہر شخص اپنی بابت ہی جھگڑا کرتا ہوا آئے [115] گا اور ہر ایک کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہو گا
[115] قیامت کے دن صرف اپنی اپنی جان کی فکر ہو گی:۔
ان مہاجرین و مجاہدین کی لغزشیں اس دن معاف کر دی جائیں گی جس دن ہر شخص کو صرف اپنی ہی فکر پڑی ہو گی۔ ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، اولاد کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا حتیٰ کہ اس سے بولنا بھی پسند نہ کرے گا بلکہ ان سے بچتا پھرے گا۔ ہر ایک کو یہ فکر ہو گی کہ وہ عذاب الٰہی سے کیسے نجات حاصل کر سکتا ہے اس غرض کے لیے وہ کچھ جھوٹے سچے عذر بھی تراشے گا اور سوال و جواب کر کے چاہے گا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صبر و استقامت ٭٭
یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لیے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہو گا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے۔ اللہ ظلم سے پاک ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَوْمَ تَاْتِیْ كُ٘لُّ نَفْ٘سٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑا کرتا ہوا اپنی طرف سے یعنی ہر شخص (نفسی نفسی) پکارے گا اور اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہو گا، پس اس روز بندہ ذرہ بھر نیکی کے حصول کا بھی محتاج ہو گا۔ ﴿ وَتُوَفّٰى كُ٘لُّ نَفْ٘سٍ مَّا عَمِلَتْ اور پورا ملے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا یعنی نیک یا بد جو بھی عمل کیا ہو گا ﴿ وَهُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ان کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی۔ ﴿ فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَ٘فْ٘سٌ شَیْـًٔؔا وَّلَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (یٰسٓ:36؍54) آج کسی جان پر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمھیں ویسی ہی جزا دی جائے گی جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

حين {تأتي كلُّ نفس تجادِلُ عن نفسها}: كلٌّ يقول: نفسي نفسي، لا يهمُه سوى نفسه؛ ففي ذلك اليوم يفتقر العبدُ إلى حصول مثقال ذرَّة من الخير. {وتُوفَّى كلُّ نفس ما عملت}: من خيرٍ وشرٍّ. {وهم لا يُظْلَمونَ}: فلا يزادُ في سيئاتهم، ولا يُنْقَصُ من حسناتهم. {فاليوم لا تُظْلَمُ نفسٌ شيئاً ولا تُجْزَوْن إلاَّ ما كنتُم تعملونَ}.