تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 58

قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾
انھوں نے کہا بے شک ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ En
(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ اس کو عذاب کریں)
En
انہوں نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا إنَّا أرسِلْنا إلى قوم مجرِمين}؛ أي: كثر فسادُهم وعَظُم شرُّهم لنعذِّبَهم ونعاقبهم.