اس آیت کی تفسیر آیت 57 میں تا آیت 59 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
58۔ وہ کہنے لگے:“ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْۤااِنَّاۤاُرْسِلْنَاۤاِلٰىقَوْمٍمُّجْرِمِیْنَ ﴾”انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔