تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 59

اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾
سوائے لوط کے گھر والوں کے کہ یقینا ہم ان سب کو ضرور بچا لینے والے ہیں۔ En
مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے
En
مگر خاندان لوط کہ ہم ان سب کو تو ضرور بچا لیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ سوائے لوط علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کے۔ ﴿اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَ٘مِنَ الْغٰبِرِیْنَ سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوط علیہ السلام تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا: ﴿یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ (ھود: 11؍76) اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلاَّ آلَ لوطٍ}؛ أي: إلاَّ لوطاً وأهله، {إلاَّ امرأتَهُ قدَّرْنا أنَّها لَمِنَ الغابرين}؛ أي: الباقين بالعذاب، وأما لوطٌ؛ فَسَنُخْرِجَنَّه وأهله وننجِّيهم منها. فجعل إبراهيم يجادل الرسل في إهلاكهم ويراجعهم، فقيل له: {يا إبراهيمُ أعْرِضْ عن هذا إنَّه قد جاء أمُر ربِّك وإنَّهم آتيهم عذابٌ غير مردودٍ}. فذهبوا منه.