تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ سَرَابِیْلُهُمْ ﴾”ان کے کرتے“ یعنی ان کے کپڑے ﴿ مِّنْقَطِرَانٍ ﴾”گندھک کے ہوں گے“ یعنی وہ انتہائی شدید شعلہ زن آگ، سخت حرارت اور جہنم کی بدبو میں ہوں گے۔ ﴿ وَّتَغْشٰىوُجُوْهَهُمُ ﴾”اور ان کے چہروں کو لپیٹ لے گی۔“ جو ان کے بدن میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہوں گے ﴿ النَّارُ ﴾”آگ“ یعنی آگ ان کے چہرے کو گھیر لے گی اور ہر جانب سے اس کو جلا ڈالے گی۔ اور چہرے کے علاوہ جسم کے دیگر حصے تو بدرجہ اولیٰ اس آگ میں جلیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{سرابيلُهم}؛ أي: ثيابهم {من قَطِرانٍ}: وذلك لشدَّة اشتعال النار فيهم وحرارتها ونتن ريحها، {وتَغْشى وجوهَهم}: التي هي أشرف ما في أبدانهم {النارُ}؛ أي: تحيط بها، وتَصلاها من كل جانب، وغير الوجوه من باب أولى وأحرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔