تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 51

لِیَجۡزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۵۱﴾
تاکہ اللہ ہر جان کو اس کا بدلہ دے جو اس نے کمایا۔ بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ En
یہ اس لیے کہ خدا ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے
En
یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ دے، بیشک اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگنے کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں ہے بلکہ یہ ان کے اعمال کی جزا ہے جن کا انھوں نے اکتساب کر کے آگے بھیجے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُ٘لَّ نَفْ٘سٍ مَّا كَسَبَتْ تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کا نہایت عدل و انصاف کے ساتھ بدلہ دے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی ظلم نہ ہو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے جیسا کہ فرمایا: ﴿اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ (الانبیاء: 21؍1) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں ڈوبے اور منہ موڑے ہوئے ہیں۔ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ بہت سرعت سے ان کا حساب کتاب ہو گا اور ایک ہی گھڑی میں تمام مخلوق کا حساب کتاب ہو جائے گا جیسے اللہ تعالیٰ آن واحد میں تمام مخلوق کو رزق عطا کرتا ہے اور ان میں مختلف انواع کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی معاملہ اسے کسی دوسرے معاملے سے غافل نہیں کر سکتا اور یہ سب کچھ اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وليس هذا ظلماً من الله [لهم]، وإنما هو جزاءٌ لما قدَّموا وكسبوا، ولهذا قال تعالى: {لِيَجْزِيَ الله كلَّ نفس ما كَسَبَتْ}: من خير وشرٍّ بالعدل والقِسْط الذي لا جَوْر فيه بوجه من الوجوه. {إنَّ الله سريعُ الحساب}؛ كقوله تعالى: {اقتربَ للناس حسابُهم وهم في غفلةٍ معرضونَ}، ويُحتمل أن معناه سريع المحاسبة؛ فيحاسِبُ الخلق في ساعة واحدةٍ كما يرزقهم ويدبِّرهم بأنواع التدابير في لحظة واحدةٍ، لا يشغَلُه شأنٌ عن شأنٌ، وليس ذلك بعسير عليه.