تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَتَرَىالْمُجْرِمِیْنَ ﴾”اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو“ جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے ﴿ یَوْمَىِٕذٍ﴾”اس روز“﴿مُّقَرَّنِیْنَفِیالْاَصْفَادِ ﴾”باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں “ یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہیئت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وترى المجرمين}؛ أي: الذين وصفُهم الإجرامُ وكثرة الذنوب في ذلك اليوم، {مقرَّنين في الأصفادِ}؛ أي: يُسَلْسَلُ كلُّ أهل عمل من المجرمين بسلاسل من نارٍ، فيُقادون إلى العذاب في أذلِّ صورة وأشنعها وأبشعها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔