تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 49

وَ تَـرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ مُّقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ ﴿ۚ۴۹﴾
اور تو مجرموں کو اس دن زنجیروں میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے دیکھے گا۔ En
اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں
En
آپ اس دن گناه گاروں کو دیکھیں گے کہ زنجیروں میں ملے جلے ایک جگہ جکڑے ہوئے ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے ﴿ یَوْمَىِٕذٍ اس روز ﴿مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہیئت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وترى المجرمين}؛ أي: الذين وصفُهم الإجرامُ وكثرة الذنوب في ذلك اليوم، {مقرَّنين في الأصفادِ}؛ أي: يُسَلْسَلُ كلُّ أهل عمل من المجرمين بسلاسل من نارٍ، فيُقادون إلى العذاب في أذلِّ صورة وأشنعها وأبشعها.