تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 4

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمۡ ؕ فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۴﴾
اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں، تاکہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان کرے، پھر اللہ گمراہ کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے
En
ہم نے ہر ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا ہے تاکہ ان کے سامنے وضاحت سے بیان کر دے۔ اب اللہ جسے چاہے گمراه کر دے، اور جسے چاہے راه دکھا دے، وه غلبہ اور حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ہر ایک رسول کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے ان امور کو واضح کرے جن کے وہ محتاج ہیں اور وہ ان کی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں کتاب لے کر آیا ہوتا تو وہ اس زبان کو سیکھنے کے محتاج ہوتے جس میں رسول کلام کرتا ہے تب کہیں جا کر رسول کی باتیں ان کی سمجھ میں آتیں۔ پس جب رسول ان تمام امور کو بیان کر دیتا ہے جن کا انھیں حکم دیا گیا اور جن سے ان کو روکا گیا ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تو ان میں سے جو لوگ ہدایت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ ان کو گمراہ کردیتا ہے اور جن کو اپنی رحمت کے لیے مختص کر لیتا ہے ان کو راہ ہدایت سے نواز دیتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ الْحَكِیْمُ اور وہ غالب حکمت والا ہے جس کا غلبہ یہ ہے کہ وہ ہدایت دینے، گمراہ کرنے اور جس طرف چاہے دلوں کو پھیر دینے میں منفرد ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی کو اسی مقام پر واقع کرتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ وہ علوم عربیہ جن کے ذریعے سے کلام اللہ اور کلام رسول کی توضیح و تبیین ہوتی ہے، امور مطلوبہ میں شمار ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں کیونکہ ان کے بغیر کتاب اللہ کی معرفت کی تکمیل نہیں ہوتی، البتہ اگر لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ ان علوم عربیہ کے محتاج نہ ہوں اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ انھیں عربی زبان پر عبور حاصل ہو اور ان کے چھوٹے بچوں نے عربی زبان میں تعلیم و تربیت حاصل کی ہو اور عربی زبان ان کی طبیعت بن گئی ہو تو اس صورت میں اس مشقت میں پڑنے کی ان کو ضرورت نہیں اور وہ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دین اس طرح اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے (بغیر علوم آلیہ اور عربیہ کے) دین اخذ کیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من لطفه بعباده أنَّه ما أرسل رسولاً إلا بلسان قومه؛ ليبيِّن لهم ما يحتاجون إليه، ويتمكَّنون من تعلُّم ما أتى به، بخلاف ما لو أتى على غير لسانهم؛ فإنهم يحتاجون إلى تعلُّم تلك اللغة التي يتكلَّم بها، ثم يفهمون عنه. فإذا بيَّن [لهم] الرسول ما أمروا به ونُهوا عنه وقامت عليهم حجَّة الله؛ {فيضلُّ الله مَن يشاء}: ممَّن لم ينقدْ للهدى، {ويَهْدي من يشاء}: ممَّن اختصَّه برحمته. {وهو العزيز الحكيم}: الذي من عزته أنه انفرد بالهداية والإضلال وتقليب القلوب إلى ما شاء، ومن حكمته أنه لا يضع هدايته ولا إضلاله إلا بالمحل اللائق به.

ويستدل بهذه الآية الكريمة على أن علوم العربية الموصلة إلى تبيُّن كلامه وكلام رسوله أمورٌ مطلوبةٌ محبوبةٌ لله؛ لأنَّه لا يتمُّ معرفة ما أنزل على رسوله إلا بها، إلا إذا كان الناس في حالة لا يحتاجون إليها، وذلك إذا تمرَّنوا على العربية، ونشأ عليها صغيرهم، وصار طبيعةً لهم؛ فحينئذٍ قد اكتفوا المؤنة، وصلحوا على أن يَتَلَقَّوْا عن الله وعن رسوله ابتداءً، كما تلقَّى عنهم الصحابة رضي الله عنهم.