تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 5

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اَنۡ اَخۡرِجۡ قَوۡمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ۙ وَ ذَکِّرۡہُمۡ بِاَیّٰىمِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۵﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال اور انھیں اللہ کے دن یاد دلا، بلاشبہ اس میں ہر ایسے شخص کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو بہت صبر کرنے والا، بہت شکر کرنے والا ہے۔ En
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر وشاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں
En
(یاد رکھو جب کہ) ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ تو اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی میں نکال اور انہیں اللہ کے احسانات یاد دﻻ۔ اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک صبر شکر کرنے والے کے لئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی بڑی بڑی نشانیوں کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا جو آپ کی رسالت کی صداقت اور صحت پر دلالت کرتی تھیں اور ان کو بھی وہی حکم دیا جو اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے بلکہ یہ وہی حکم ہے جو تمام انبیاء و مرسلین نے اپنی قوم کو دیا تھا ﴿اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ یہ کہ نکال اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف یعنی جہالت، کفر اور اس کی فروعات کی تاریکیوں سے نکال کر علم، ایمان اور اس کے توابع کی روشنی کی طرف۔ ﴿ وَذَكِّ٘رْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ اور یاد دلا ان کو اللہ کے دن یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور اس کے احسانات اور جھٹلانے والی قوموں کفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک اور وقائع یاد دلائیے تاکہ یہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے عذاب سے ڈریں۔ ﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اس میں یعنی بندوں کے متعلق ایام الٰہی میں ﴿ لَاٰیٰتٍ لِّ٘كُ٘لِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ ہر صابر و شاکر کے لیے نشانیاں ہیں یعنی مصائب، تکلیف اور تنگی میں نہایت صابر اور خوشحالی اور نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے والے۔ایام الٰہی سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل قدرت، بے پایاں احسان اور اپنے کامل عدل و حکمت پر استدلال کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنه أرسل موسى بآياته العظيمة الدالَّة على صدق ما جاء به وصحَّته، وأمره بما أمر الله به رسوله محمداً - صلى الله عليه وسلم -، بل وبما أمر به جميع الرسل قومهم: {أن أخْرِجْ قومك من الظُّلمات إلى النور}؛ أي: ظلمات الجهل والكفر وفروعه إلى نور العلم والإيمان وتوابعه. {وذكِّرْهم بأيام الله}؛ أي: بنعمه عليهم وإحسانه إليهم، وبأيَّامه في الأمم المكذِّبين ووقائعه بالكافرين؛ ليشكروا نعمه وليحذروا عقابه. {إنَّ في ذلك}؛ أي: في أيام الله على العباد، {لآياتٍ لكلِّ صبَّارٍ شكور}؛ أي: صبار في الضرَّاء والعسر والضيق، شكور على السراء والنعمة؛ فإنَّه يستدلُّ بأيامه على كمال قدرته وعميم إحسانه وتمام عدله وحكمته.