تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 3

الَّذِیۡنَ یَسۡتَحِبُّوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۳﴾
وہ جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں بہت زیادہ محبوب رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں، یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔ En
جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں
En
جو آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کو پسند رکھتے ہیں اور اللہ کی راه سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں آخرت پر پس وہ دنیا پر راضی اور مطمئن ہو کر آخرت سے غافل ہو گئے۔ ﴿وَیَصُدُّوْنَ اور (لوگوں کو) روکتے ہیں ﴿ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اللہ کے راستے سے وہ راستہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا ہے اور اسے اپنی کتابوں میں اور اپنے رسولوں کی زبان پر خوب بیان کر دیا ہے مگر یہ لوگ اپنے آقاومولا کے مقابلے میں عداوت و محاربت کا اظہار کرتے ہیں ﴿ وَیَبْغُوْنَهَا اور تلاش کرتے ہیں اس میں یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ﴿عِوَجًا کجی یعنی وہ اس راستے کو خراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کے خلاف نفرت پیدا ہو جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ یعنی وہ لوگ جن کا وصف بیان کیا گیا ہے ﴿ فِیْ ضَلٰلٍۭؔ بَعِیْدٍ دور کی گمراہی میں ہیں کیونکہ وہ خود گمراہ ہوئے، لوگوں کو گمراہ کیا، انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور ان کے خلاف جنگ کی۔ پس اس سے بڑھ کر اور کون سی گمراہی ہے؟ لیکن اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں، دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے ہیں، وہ لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں، وہ امکان بھر اس راستے کو خوبصورت بناتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ سیدھا رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم وصفهم بأنهم الذين استحبوا {الحياة الدُّنيا على الآخرة}: فرضوا بها واطمأنوا وغفلوا عن الدار الآخرة. {ويصدُّون} الناس {عن سبيل الله}: التي نَصَبها لعباده وبيَّنها في كتبه وعلى ألسنة رسله؛ فهؤلاء قد نابَذوا مولاهم بالمعاداة والمحاربة. {ويَبْغونها}؛ أي: سبيل الله {عوجاً}؛ أي: يحرصون على تهجينها وتقبيحها للتنفير عنها، ولكن يأبى الله إلا أن يُتِمَّ نوره ولو كره الكافرون. {أولئك}: الذين ذُكِر وصفهم {في ضلال بعيد}: لأنهم ضلُّوا وأضلُّوا وشاقُّوا اللهَ ورسولَهُ وحاربوهما؛ فأيُّ ضلال أبعدُ من هذا؟! وأما أهل الإيمان؛ فبعكس هؤلاء؛ يؤمنون بالله وآياته، ويستحبُّون الآخرة على الدنيا، ويدعون إلى سبيل الله، ويحسِّنونها مهما أمكنهم، ويبينون استقامتها.