تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَآءُ …:} یعنی گو ہر پیغمبر اپنی دعوت اسی زبان میں پیش کرتا ہے جسے ساری قوم سمجھتی ہے، تاہم ہدایت و ضلالت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے۔ آج بھی بہت سی عجمی قومیں اسلام کی حامی اور مددگار نظر آتی ہیں اور عرب ممالک باوجود عربی زبان کی خدمت و اشاعت کے اسلام سے منحرف اور دور ہو رہے ہیں۔ (الا ما شاء اللہ)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[5] یہ بات نہیں کہ چونکہ اللہ ہر چیز پر غالب ہے لہٰذا وہ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت دے دے۔ بلکہ وہ حکیم بھی ہے اور اس کی حکمت کا یہی تقاضا ہے کہ جو ہدایت کا طالب ہو اسے ضرور ہدایت دی جائے اور گمراہ صرف اسے کرتا ہے جو گمراہی کی راہ اختیار کرے اور حق بات سننے کے لیے تیار ہی نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حق ان پر کھل تو جاتا ہی ہے پھر ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے، اس کے چاہنے کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ وہ غالب ہے، اس کا ہر کام الحکمت سے ہے، گمراہ وہی ہوتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں اور ہدایت پر وہی آتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں۔
چونکہ ہر نبی صرف اپنی اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا رہا اس لیے اسے اس کی قومی زبان میں ہی کتاب اللہ ملتی تھی اور اس کی اپنی زبان بھی وہی ہوتی تھی۔
قرآن یہی فرماتا ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7-الاعراف: 158] ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کر دو کہ میں تم سب کی جانب اللہ کا رسول ہوں صلی اللہ علیہ وسلم ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من لطفه بعباده أنَّه ما أرسل رسولاً إلا بلسان قومه؛ ليبيِّن لهم ما يحتاجون إليه، ويتمكَّنون من تعلُّم ما أتى به، بخلاف ما لو أتى على غير لسانهم؛ فإنهم يحتاجون إلى تعلُّم تلك اللغة التي يتكلَّم بها، ثم يفهمون عنه. فإذا بيَّن [لهم] الرسول ما أمروا به ونُهوا عنه وقامت عليهم حجَّة الله؛ {فيضلُّ الله مَن يشاء}: ممَّن لم ينقدْ للهدى، {ويَهْدي من يشاء}: ممَّن اختصَّه برحمته. {وهو العزيز الحكيم}: الذي من عزته أنه انفرد بالهداية والإضلال وتقليب القلوب إلى ما شاء، ومن حكمته أنه لا يضع هدايته ولا إضلاله إلا بالمحل اللائق به.
ويستدل بهذه الآية الكريمة على أن علوم العربية الموصلة إلى تبيُّن كلامه وكلام رسوله أمورٌ مطلوبةٌ محبوبةٌ لله؛ لأنَّه لا يتمُّ معرفة ما أنزل على رسوله إلا بها، إلا إذا كان الناس في حالة لا يحتاجون إليها، وذلك إذا تمرَّنوا على العربية، ونشأ عليها صغيرهم، وصار طبيعةً لهم؛ فحينئذٍ قد اكتفوا المؤنة، وصلحوا على أن يَتَلَقَّوْا عن الله وعن رسوله ابتداءً، كما تلقَّى عنهم الصحابة رضي الله عنهم.