تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْا﴾ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا: ﴿ وَاَ٘قْبَلُوْاعَلَیْهِمْ ﴾”اور ان کی طرف متوجہ ہوئے“ تہمت کو دور کرنے کے لیے کیونکہ چور ہمیشہ اس شخص سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے جس کی اس نے چوری کی ہو تاکہ اس کی چوری پکڑی نہ جائے اور یہ لوگ ان کے پاس واپس آگئے، تہمت کے ازالے کے سوا ان کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس صورت میں انھوں نے اعلان کرنے والوں سے پوچھا ﴿ مَّاذَاتَفْقِدُوْنَؔ ﴾”تمھاری کیا چیز گم ہوگئی ہے؟“ انھوں نے یہ نہیں پوچھا ”ہم نے تمھاری کیا چیز چرا لی ہے؟“ کیونکہ وہ چوری کے اس الزام سے اپنے آپ کو یقینی طور پر بری سمجھتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا}؛ أي: إخوة يوسف، {وأقبلوا عليهم}: لإبعاد التُّهمة؛ فإنَّ السارق ليس له همٌّ إلا البعد والانطلاق عمَّن سرق منه؛ لتسلم له سرقته، وهؤلاء جاؤوا مقبلين إليهم، ليس لهم همٌّ إلا إزالة التهمة التي رُموا بها عنهم، فقالوا في هذه الحال: {ماذا تفقِدون}؟ ولم يقولوا: ما الذي سَرَقْنا؟ لجزمهم بأنهم بُرآء من السرقة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔