اس آیت کی تفسیر آیت 70 میں تا آیت 72 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
71۔ انہوں نے پکارنے والے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ”تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے؟“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کر دیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ علیہ السلام کے بھائی بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھو گئی ہے؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْا﴾ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا: ﴿ وَاَ٘قْبَلُوْاعَلَیْهِمْ ﴾”اور ان کی طرف متوجہ ہوئے“ تہمت کو دور کرنے کے لیے کیونکہ چور ہمیشہ اس شخص سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے جس کی اس نے چوری کی ہو تاکہ اس کی چوری پکڑی نہ جائے اور یہ لوگ ان کے پاس واپس آگئے، تہمت کے ازالے کے سوا ان کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس صورت میں انھوں نے اعلان کرنے والوں سے پوچھا ﴿ مَّاذَاتَفْقِدُوْنَؔ ﴾”تمھاری کیا چیز گم ہوگئی ہے؟“ انھوں نے یہ نہیں پوچھا ”ہم نے تمھاری کیا چیز چرا لی ہے؟“ کیونکہ وہ چوری کے اس الزام سے اپنے آپ کو یقینی طور پر بری سمجھتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا}؛ أي: إخوة يوسف، {وأقبلوا عليهم}: لإبعاد التُّهمة؛ فإنَّ السارق ليس له همٌّ إلا البعد والانطلاق عمَّن سرق منه؛ لتسلم له سرقته، وهؤلاء جاؤوا مقبلين إليهم، ليس لهم همٌّ إلا إزالة التهمة التي رُموا بها عنهم، فقالوا في هذه الحال: {ماذا تفقِدون}؟ ولم يقولوا: ما الذي سَرَقْنا؟ لجزمهم بأنهم بُرآء من السرقة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔