پھر جب اس نے انھیں ان کے سامان کے ساتھ تیار کر دیا تو پینے کا برتن اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا، پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا اے قافلے والو! بلاشبہ تم یقینا چور ہو۔
En
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
پھر جب انہیں ان کا سامان اسباب ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو! تم لوگ تو چور ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَلَمَّاجَهَّزَهُمْبِجَهَازِهِمْ﴾”پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب“ یعنی جب یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَالسِّقَایَةَ ﴾”تو رکھ دیا پینے کا پیالہ“ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِیْرَحْلِاَخِیْهِثُمَّ﴾”اپنے بھائی کے سامان میں، پھر“ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَمُؤَذِّنٌؔاَیَّتُهَاالْعِیْرُاِنَّـكُمْلَسٰرِقُوْنَؔ﴾”اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو“ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلما جهَّزهم بجهَازهم}؛ أي: كال لكلِّ واحدٍ من إخوته، ومن جملتهم أخوه هذا، {جعل السِّقايةَ}: وهو الإناء الذي يُشرب به ويُكال فيه {في رحل أخيه ثم}: أوعوا متاعهم، فلما انطلقوا ذاهبين؛ {أذَّن مؤذِّنٌ أيتها العيرُ إنكم لسارقون}: ولعل هذا المؤذِّن لم يعلم بحقيقة الحال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔