تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 72

قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِکِ وَ لِمَنۡ جَآءَ بِہٖ حِمۡلُ بَعِیۡرٍ وَّ اَنَا بِہٖ زَعِیۡمٌ ﴿۷۲﴾
انھوں نے کہا ہم بادشاہ کا پیمانہ گم پاتے ہیں اور جو اسے لے آئے اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ (غلہ) ہوگا اور میں اس کا ضامن ہوں۔ En
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
En
جواب دیا کہ شاہی پیمانہ گم ہے جو اسے لے آئےاسے ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ ملے گا۔ اس وعدے کا میں ضامن ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے گا، اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے یعنی اس کو ڈھونڈنے کی اجرت میں ایک بار شتر اناج ملے گا ﴿ وَّاَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ اور میں اس کا ضامن ہوں۔ یعنی یہ اناج دلانے کا میں ذمہ لیتا ہوں، یہ بات تلاش کرنے والے نے کہی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا نفقِدُ صُواعَ الملك ولمن جاء به حِمْلُ بعيرٍ}؛ أي: أجرة له على وجدانه، {وأنا به زعيمٌ}؛ أي: كفيل. وهذا يقوله المؤذِّن المتفقِّد.