تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْانَفْقِدُصُوَاعَالْمَلِكِوَلِمَنْجَآءَبِهٖحِمْلُبَعِیْرٍ ﴾”ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے گا، اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے“ یعنی اس کو ڈھونڈنے کی اجرت میں ایک بار شتر اناج ملے گا ﴿ وَّاَنَابِهٖزَعِیْمٌ﴾”اور میں اس کا ضامن ہوں۔“ یعنی یہ اناج دلانے کا میں ذمہ لیتا ہوں، یہ بات تلاش کرنے والے نے کہی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا نفقِدُ صُواعَ الملك ولمن جاء به حِمْلُ بعيرٍ}؛ أي: أجرة له على وجدانه، {وأنا به زعيمٌ}؛ أي: كفيل. وهذا يقوله المؤذِّن المتفقِّد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔