تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 61

قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡہُ اَبَاہُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوۡنَ ﴿۶۱﴾
انھوں نے کہا ہم اس کے باپ کو اس کے بارے میں ضرور آمادہ کریں گے اور بے شک ہم ضرور کرنے والے ہیں۔ En
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے
En
انہوں نے کہا اچھا ہم اس کے باپ کو اس کی بابت پھسلائیں گے اور پوری کوشش کریں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا سَنُ٘رَاوِدُ عَنْهُ اَبَ٘اهُ انھوں نے کہا، ہم ضرور خواہش کریں گے اس کی بابت اس کے باپ سے یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یعقوب علیہ السلام بنیامین سے بے حد محبت کرتے تھے اور حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی کے بعد بنیامین ہی ان کے لیے تسلی کا باعث تھے۔ اس لیے یوسف علیہ السلام نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بلوانے کے لیے یہ تدبیر اختیار کی ﴿ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَؔ اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے۔ یعنی جو کچھ آپ نے کہا ہے ہم اس پر ضرور عمل کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقالوا: {سنراوِدُ عنه أباه}: دلَّ هذا على أن يعقوب عليه السلام كان مولَعاً به لا يصبِرُ عنه، وكان يتسلَّى به بعد يوسف؛ فلذلك احتاج إلى مراودةٍ في بعثه معهم، {وإنَّا لفاعلونَ}: لما أمرتنا به.