ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 61

قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡہُ اَبَاہُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوۡنَ ﴿۶۱﴾
انھوں نے کہا ہم اس کے باپ کو اس کے بارے میں ضرور آمادہ کریں گے اور بے شک ہم ضرور کرنے والے ہیں۔ En
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے
En
انہوں نے کہا اچھا ہم اس کے باپ کو اس کی بابت پھسلائیں گے اور پوری کوشش کریں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت61) {قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ …:} یعنی ہم اس کے باپ کو ہر طرح سے آمادہ کریں گے۔ سین مستقبل کا معنی دینے کے علاوہ تاکید کے لیے بھی آتا ہے، اس لیے ترجمہ ضرور کیا گیا ہے۔ { وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ } میں یہ کام کرنے کا وعدہ تین طرح کی تاکید سے کیا ہے، {اِنَّ}، لام تاکید اور جملہ اسمیہ سے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61۔ 1 یعنی ہم اپنے باپ کو اس بھائی کو لانے کے لئے پھسلائیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہوجائیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ وہ کہنے لگے: ”ہم اس کے والد کو اس کام پر آمادہ کریں گے اور یہ کام کر کے رہیں [59] گے“
[59] وہ کہنے لگے، ہمارا باپ بوڑھا ہے۔ لہٰذا وہ آسانی سے اسے ہمارے ساتھ روانہ نہ کرے گا۔ تاہم ہم لوگ اپنی پوری کوشش کریں گے اور امید ہے کہ اپنے باپ کو اس بات پر آمادہ کر لیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا سَنُ٘رَاوِدُ عَنْهُ اَبَ٘اهُ انھوں نے کہا، ہم ضرور خواہش کریں گے اس کی بابت اس کے باپ سے یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یعقوب علیہ السلام بنیامین سے بے حد محبت کرتے تھے اور حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی کے بعد بنیامین ہی ان کے لیے تسلی کا باعث تھے۔ اس لیے یوسف علیہ السلام نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بلوانے کے لیے یہ تدبیر اختیار کی ﴿ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَؔ اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے۔ یعنی جو کچھ آپ نے کہا ہے ہم اس پر ضرور عمل کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقالوا: {سنراوِدُ عنه أباه}: دلَّ هذا على أن يعقوب عليه السلام كان مولَعاً به لا يصبِرُ عنه، وكان يتسلَّى به بعد يوسف؛ فلذلك احتاج إلى مراودةٍ في بعثه معهم، {وإنَّا لفاعلونَ}: لما أمرتنا به.