اور اس نے اپنے جوانوں سے کہا ان کا مال ان کے کجاووں میں رکھ دو، تاکہ وہ اسے پہچان لیں جب اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائیں، شاید وہ پھر آجائیں۔
En
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
اپنے خدمت گاروں سے کہا کہ ان کی پونجی انہی کی بوریوں میں رکھ دو کہ جب لوٹ کر اپنے اہل وعیال میں جائیں اور پونجیوں کو پہچان لیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالَ ﴾ یوسف علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ لِفِتْیٰنِهِ﴾”اپنے خدام سے۔“ یعنی اپنے کارندوں سے جو ان کی خدمت میں موجود تھے۔ ﴿ اجْعَلُوْابِضَاعَتَهُمْ ﴾”رکھ دو ان کی پونجی“ یعنی وہ قیمت جس کے بدلے انھوں نے اناج خریدا تھا۔ ﴿ فِیْرِحَالِهِمْلَعَلَّهُمْیَعْرِفُوْنَهَاۤ۠ ﴾”ان کے اسباب میں، شاید وہ اس کو پہچان لیں “ یعنی جب وہ اپنے مال کو جو انھوں نے قیمت کے طور پر ادا کیا تھا، واپس اپنے اپنے کجاووں میں دیکھیں گے ﴿ لَعَلَّهُمْیَرْجِعُوْنَؔ ﴾”شاید یہ پھر یہاں آئیں۔“ یعنی شاید وہ اپنے مال کی واپسی کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے لوٹانے کے لیے مصر واپس آئیں۔
ظاہر ہے یوسف علیہ السلام نے ان کے ساتھ پورے تول کے ذریعے سے نیکی کی تھی، پھر ان کی قیمت بھی ان کو اس طرح واپس لوٹا دی تھی کہ اس کی واپسی کا انھیں پتہ بھی نہ چلا کیونکہ احسان انسان کے لیے واجب ٹھہراتا ہے کہ محسن کے لیے پوری وفاداری کی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقال} يوسفُ {لفتيانِهِ} الذين في خدمتِهِ: {اجعَلوا بضاعَتَهم}؛ أي: الثمن الذي اشتروا به منه الميرة، {في رحالهم لعلَّهم يعرِفونها}؛ أي: بضاعتهم إذا رأوها بعد ذلك في رحالهم؛ {لعلَّهم يرجِعون}: لأجل التحرُّج من أخذها على ما قيل. والظاهر أنَّه أراد أن يرغِّبهم في إحسانه إليهم بالكيل لهم كيلاً وافياً ثم إعادة بضاعتهم إليهم على وجه لا يحسُّون بها ولا يشعرون لما يأتي؛ فإنَّ الإحسان يوجب للإنسان تمام الوفاء للمحسن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔