تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 60

فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِیۡ بِہٖ فَلَا کَیۡلَ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ وَ لَا تَقۡرَبُوۡنِ ﴿۶۰﴾
پھر اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو تمھارے لیے میرے پاس نہ کوئی ماپ ہوگا اور نہ میرے قریب آنا۔ En
اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے
En
پس اگر تم اسے لے کر پاس نہ آئے تو میری طرف سے تمہیں کوئی ناپ بھی نہ ملے گا بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کو اپنا بھائی ساتھ نہ لانے کی صورت میں ڈراتے ہوئے کہا: ﴿ فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمھارے لیے میرے پاس کوئی ماپ نہیں ہے اور میرے پاس نہ آنا یہ بات حضرت یوسف علیہ السلام نے اس لیے کہی کیونکہ انھیں علم تھا کہ وہ مصر ان کے پاس ضرور آئیں گے اور اپنے بھائی کو ساتھ لانے پر مجبور ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثمَّ رهَّبهم بعدم الإتيان به، فقال: {فإن لم تأتوني به فلا كَيْلَ لكُم عندي ولا تَقْرَبونِ}: وذلك لعلمه باضطرارهم إلى الإتيان إليه، وأنَّ ذلك يحملهم على الإتيان به.