تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کو اپنا بھائی ساتھ نہ لانے کی صورت میں ڈراتے ہوئے کہا: ﴿ فَاِنْلَّمْتَاْتُوْنِیْبِهٖفَلَاكَیْلَلَكُمْعِنْدِیْوَلَاتَقْرَبُوْنِ ﴾”پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمھارے لیے میرے پاس کوئی ماپ نہیں ہے اور میرے پاس نہ آنا“ یہ بات حضرت یوسف علیہ السلام نے اس لیے کہی کیونکہ انھیں علم تھا کہ وہ مصر ان کے پاس ضرور آئیں گے اور اپنے بھائی کو ساتھ لانے پر مجبور ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثمَّ رهَّبهم بعدم الإتيان به، فقال: {فإن لم تأتوني به فلا كَيْلَ لكُم عندي ولا تَقْرَبونِ}: وذلك لعلمه باضطرارهم إلى الإتيان إليه، وأنَّ ذلك يحملهم على الإتيان به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔