ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 60

فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِیۡ بِہٖ فَلَا کَیۡلَ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ وَ لَا تَقۡرَبُوۡنِ ﴿۶۰﴾
پھر اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو تمھارے لیے میرے پاس نہ کوئی ماپ ہوگا اور نہ میرے قریب آنا۔ En
اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے
En
پس اگر تم اسے لے کر پاس نہ آئے تو میری طرف سے تمہیں کوئی ناپ بھی نہ ملے گا بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 59 میں تا آیت 61 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60۔ 1 ترغیب کے ساتھ یہ دھمکی ہے کہ اگر گیارہویں بھائی کو ساتھ نہ لائے تو نہ تمہیں غلہ ملے گا نہ میری طرف سے اس خاطر مدارت کا اہتمام ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ اور اگر تم اسے نہ لائے تو پھر میرے پاس نہ تمہارے لیے غلہ ہے [58] اور نہ ہی میرے پاس آنے کی کوشش کرنا
[58] سیدنا یوسف کے چھوٹے بھائی کو ساتھ لانے کی تاکید:۔
برادران یوسف کی درخواست میں ان کے والد اور چھوٹے بھائی کا بھی اندراج تھا۔ لیکن منظوری فی کس ایک بار شتر غلہ صرف ان افراد کی ہوئی جو غلہ لینے آئے تھے اور سیدنا یوسف کے پاس حاضر کئے گئے تھے۔ آپؑ نے باقی افراد کے متعلق ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ سن رسیدہ آدمی ہے آنے کے قابل ہی نہیں اور چھوٹے بھائی کو ہم اس کی خبرگیری کے لیے چھوڑ آئے ہیں۔ سیدنا یوسفؑ نے انھیں کہا۔ دیکھو! تمہارا باپ تو واقعی آنے کے قابل نہ رہا ہو گا۔ البتہ اگلی بار جب آؤ اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور ساتھ لانا۔ اس دفعہ تو تمہاری درخواست منظور کر دی گئی ہے اور غلہ بھی پورا دے دیتا ہوں۔ مگر آئندہ اگر تم اپنے بھائی کو نہ لائے تو میں سمجھوں گا کہ تم جھوٹے تھے۔ لہٰذا اس صورت میں نہ تو تمہیں غلہ مل سکے گا اور نہ ہی مجھ تک رسائی ہو سکے گی۔ بلکہ میرے ہاں آنے کی کوشش ہی نہ کرنا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کو اپنا بھائی ساتھ نہ لانے کی صورت میں ڈراتے ہوئے کہا: ﴿ فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمھارے لیے میرے پاس کوئی ماپ نہیں ہے اور میرے پاس نہ آنا یہ بات حضرت یوسف علیہ السلام نے اس لیے کہی کیونکہ انھیں علم تھا کہ وہ مصر ان کے پاس ضرور آئیں گے اور اپنے بھائی کو ساتھ لانے پر مجبور ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثمَّ رهَّبهم بعدم الإتيان به، فقال: {فإن لم تأتوني به فلا كَيْلَ لكُم عندي ولا تَقْرَبونِ}: وذلك لعلمه باضطرارهم إلى الإتيان إليه، وأنَّ ذلك يحملهم على الإتيان به.