اور جب اس نے انھیں ان کے سامان کے ساتھ تیار کر دیا تو کہا میرے پاس اپنے اس بھائی کو لے کر آنا جو تمھارے باپ سے ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ماپ پورا دیتا ہوں اور میں بہترین مہمان نواز ہوں۔
En
جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں
جب انہیں ان کا اسباب مہیا کر دیا تو کہا کہ تم میرے پاس اپنے اس بھائی کو بھی ﻻنا جو تمہارے باپ سے ہے، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں اور میں ہوں بھی بہترین میزبانی کرنے والوں میں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَمَّاجَهَّزَهُمْبِجَهَازِهِمْ ﴾”اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب“ یعنی جب یوسف علیہ السلام نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ ائْتُوْنِیْبِاَخٍلَّـكُمْمِّنْاَبِیْكُمْ﴾”اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے“ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَاتَرَوْنَاَنِّیْۤاُوْفِیالْكَیْلَوَاَنَاخَیْرُالْمُنْزِلِیْ٘نَ ﴾”کیا دیکھتے نہیں ہو کہ میں ماپ بھی پورا دیتا ہوں اور خوب مہمان نواز بھی ہوں۔“ یعنی مہمان نوازی اور عزت و اکرام کرنے میں سب سے بہتر ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولما جهَّزهم بجهَازهم}؛ أي: كال لهم كما كان يَكيلُ لغيرِهم، وكان من تدبيرِهِ الحسن أنَّه لا يَكيل لكلِّ واحدٍ أكثر من حِمْل بعير، وكان قد سألهم عن حالهم، فأخبروه أنَّ لهم أخاً عند أبيه، وهو بنيامين، فقال لهم: {ائتوني بأخٍ لكم من أبيكم}: ثم رغَّبهم في الإتيان به، فقال: {ألا تَرَوْنَ أنِّي أوفي الكيلَ وأنا خيرُ المنزِلين}: في الضيافة والإكرام.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔