اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم ان بستیوں والوں میں سے وحی کیا کرتے تھے، تو کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے اور یقینا آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو متقی بنے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے۔
En
اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
آپ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں جتنے رسول بھیجے ہیں سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے گئے۔ کیا زمین میں چل پھر کر انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا کچھ انجام ہوا؟ یقیناً آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہت ہی بہتر ہے، کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَاۤاَرْسَلْنَامِنْقَبْلِكَاِلَّارِجَالًا ﴾”اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مرد ہی رسول بنا کر بھیجے“ یعنی ہم انسانوں کی ہدایت کے لیے فرشتے یا کوئی اور مخلوق نہیں بھیجتے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کو آپ کی رسالت میں کون سی چیز انوکھی نظر آرہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کو ان پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ پس آپ کے لیے انبیائے سابقین میں اسوۂ حسنہ ہے۔ ﴿ نُّوْحِیْۤاِلَیْهِمْمِّنْاَهْلِالْ٘قُ٘رٰى ﴾”ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، (وہ) بستیوں کے رہنے والے ہیں“ یعنی یہ انبیائے کرام صحراؤں میں رہنے والے نہیں تھے بلکہ بستیوں میں رہنے والے تھے جو سب سے زیادہ کامل عقل اور سب سے زیادہ صحیح رائے کے حامل تھے تاکہ ان کا معاملہ نہایت واضح اور ان کی شان نمایاں ہو۔ ﴿ اَفَلَمْیَسِیْرُوْافِیالْاَرْضِ ﴾”کیا پس انھوں نے زمین کی سیر نہیں کی“ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق نہیں کرتے تو پھر کیا انھوں نے چل پھر کر نہیں دیکھا ﴿ فَیَنْظُ٘رُوْاكَیْفَكَانَعَاقِبَةُالَّذِیْنَمِنْقَبْلِهِمْ﴾”تو وہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔“ یعنی اور وہ دیکھتے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا۔ لہذا تم بھی اس رویہ کو اختیار کرنے سے بچو جس رویے پر وہ قائم رہے ہیں ورنہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جو ان پر نازل ہوا تھا۔ ﴿ وَلَدَارُالْاٰخِرَةِ ﴾”اور آخرت کا گھر“ یعنی جنت اور جنت کی دائمی نعمتیں ﴿ خَیْرٌلِّلَّذِیْنَاتَّقَوْا﴾”ان لوگوں کے لیے بہتر ہیں جو پرہیز گار ہیں “ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیونکہ دنیا کی نعمتیں منقطع ہو کر ختم ہو جانے والی ہیں۔ آخرت کی نعمت کامل اور کبھی نہ فنا ہونے والی ہے بلکہ وہ ہمیشہ بڑھتی چلی جاتی ہے ﴿عَطَآءًغَیْرَمَجْذُوْذٍ﴾ (ھود:11؍108) ”یہ (اللہ تعالیٰ کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی“﴿ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ ﴾”کیا تم سمجھتے نہیں۔“ یعنی کیا تمھارے پاس اتنی سی بھی عقل نہیں جو اعلیٰ کو ادنیٰ پر ترجیح دے سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {وما أرسلنا من قبلِكَ إلاَّ رجالاً}؛ أي: لم نرسل ملائكةً ولا غيرهم من أصناف الخلق؛ فلأيِّ شيءٍ يَسْتَغْرِبُ قومك رسالتك، ويزعُمون أنه ليس لك عليهم فضلٌ، فلك فيمَنْ قبلك من المرسلين أسوةٌ حسنةٌ. {نوحي إليهم من أهل القُرى}؛ أي: لا من البادية، بل من أهل القرى، الذين هم أكمل عقولاً وأصحُّ آراء، وليتبيَّن أمرهم ويتَّضح شأنهم. {أفلم يسيروا في الأرض}: إذا لم يصدِّقوا لقولك، {فينظروا كيفَ كان عاقبةُ الذين من قبلهم}: كيف أهلكهم اللهُ بتكذيبهم؛ فاحذروا أن تُقيموا على ما قاموا عليه، فيصيبكم ما أصابهم. {ولَدارُ الآخرة}؛ أي: الجنة وما فيها من النعيم المقيم، {خيرٌ للذين اتَّقَوْا}: الله في امتثال أوامره واجتناب نواهيه؛ فإنَّ نعيم الدُّنيا منغَّصٌ منكَّدٌ منقطعٌ، ونعيم الآخرة تامٌّ كامل لا يفنى أبداً، بل هو على الدوام في تزايدٍ وتواصل. عطاءً غير مجذوذ. {أفلا تعقلون}؛ أي: أفلا يكون لكم عقولٌ تؤثر الذي هو خير على الأدنى؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔