تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 108

قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾
کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔ En
کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
En
آپ کہہ دیجئے میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ قُ٘لْ (لوگوں سے) کہہ دیجیے! ﴿ هٰؔذِهٖ سَبِیْلِیْۤ یہ میرا راستہ ہے جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں، یہ راستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے جو علم حق، اس پر عمل کرنے، اس کو ترجیح دینے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص دین کو متضمن ہے۔ ﴿ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ یعنی میں تمام مخلوق اور تمام بندوں کو اپنے رب کے پاس پہنچنے پر آمادہ کرتا ہوں اور انھیں اس کی ترغیب دیتا ہوں اور انھیں ان تمام امور سے ڈراتا ہوں جو انھیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا سمجھ بوجھ کر یعنی میں اپنے دین کے بارے میں بغیر کسی شک و شبہ کے پورے علم و یقین پر ہوں۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ اور میرے متبعین بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں جیسے میں اللہ تعالیٰ کے معاملے میں پوری بصیرت اور یقین کے ساتھ اس کی طرف بلاتا ہوں۔ ﴿ وَسُبْحٰؔنَ اللّٰهِ اور اللہ پاک ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے تمام امور کی نسبت سے پاک ہے جو اس کے کمال کے منافی ہیں اور اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الْ٘مُشْرِكِیْنَ میں کسی بھی معاملے میں مشرکین میں شامل نہیں بلکہ دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {قل} للناس: {هذه سبيلي}؛ أي: طريقي التي أدعو إليها، وهي السبيل الموصلة إلى الله وإلى دار كرامته، المتضمنة للعلم بالحقِّ والعمل به وإيثاره، وإخلاص الدين لله وحده لا شريك له. {أدعو إلى الله}؛ أي: أحثُّ الخلق والعباد إلى الوصول إلى ربهم وأرغِّبهم في ذلك وأرهِّبهم مما يُبْعِدُهم عنه، ومع هذا؛ فأنا {على بصيرةٍ}: من ديني؛ أي: على علم ويقين من غير شكٍّ ولا امتراء ولا مِرْية. وكذلك {مَنِ اتَّبعني}: يدعو إلى الله كما أدعو على بصيرةٍ من أمره. {وسبحان الله}: عما نُسبَ إليه مما لا يليق بجلاله أو ينافي كماله. {وما أنا من المشركين}: في جميع أموري، بل أعبد الله مخلصاً له الدين.