یہاں تک کہ جب رسول بالکل ناامید ہوگئے اور انھوں نے گمان کیا کہ ان سے یقینا جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کے پاس ہماری مدد آگئی، پھر جسے ہم چاہتے تھے وہ بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے ہٹایا نہیں جاتا۔
En
یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا
یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہونے لگے اور وه (قوم کے لوگ) خیال کرنے لگے کہ انہیں جھوٹ کہا گیا۔ فوراً ہی ہماری مدد ان کے پاس آپہنچی جسے ہم نے چاہا اسے نجات دی گئی۔ بات یہ ہے کہ ہمارا عذاب گناهگاروں سے واپس نہیں کیا جاتا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا ہے ان کی قوم کے مجرم اور لئیم لوگ انھیں جھٹلا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت پر مہلت دیے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ انبیاء کرام پر ان کی سختیاں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں اور انبیاء و مرسلین یقین کامل اور اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید کی تصدیق کے باوجود کبھی کبھی ان کے دل میں مایوسی کا کوئی خیال سا گزرتا ہے اور ان کے علم اور یقین میں ایک قسم کا ضعف سا آجاتا ہے۔ جب معاملہ اس حال کو پہنچ جاتا ہے ﴿ جَآءَهُمْنَصْرُنَا ١ۙ فَنُجِّیَمَنْنَّشَآءُ﴾”تو ان کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی، پس جن کو ہم نے چاہا، نجات دے دی گئی“ اس سے مراد انبیاء و رسل اور ان کے متبعین ہیں۔ ﴿ وَلَایُرَدُّبَ٘اْسُنَاعَنِالْقَوْمِالْمُجْرِمِیْنَ ﴾”اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھر انہیں کرتا۔“ یعنی ہمارے عذاب کو مجرموں اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جرأت کرنے والے پر سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی کوئی پیش چل سکے گی نہ ان کی کوئی مدد کر سکے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه يرسل الرسل الكرام، فيكذِّبهم القوم المجرمون اللئام، وأن الله تعالى يمهلهم ليرجعوا إلى الحقِّ، ولا يزال الله يمهلهم حتى إنَّه تصلُ الحال إلى غاية الشدَّة منهم على الرسل، حتى إنَّ الرسل على كمال يقينهم وشدَّة تصديقهم بوعد الله ووعيده ربَّما أنه يخطُرُ بقلوبهم نوعٌ من الإياس ونوعٌ من ضعف العلم والتصديق؛ فإذا بلغ الأمر هذه الحال؛ {جاءهُم نصرُنا فنُجِّي مَن نشاء}: وهم الرسل وأتباعهم، {ولا يُرَدُّ بأسُنا عن القوم المجرمين}؛ أي: ولا يُرَدُّ عذابنا عمن اجترم وتجرأ على الله؛ فما لهم من قوَّةٍ ولا ناصر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔