تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِلَّا رِجَالًا:} اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ کچھ عورتیں بھی پیغمبر ہوئی ہیں، مثلاً حوا، آسیہ، سارہ، ام موسیٰ اور مریم علیھن السلام۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتوں کے ذریعے سے وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر اس سے ان کا معروف معنی میں نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ نبی وہ ہے جس پر شرع کے احکام اتریں اور اس قسم کی وحی کسی عورت پر نہیں اتری، یہ شرف رجال (مردوں) ہی کو حاصل رہا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت فرما دی تھی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، مگر اس آیت میں ان عورتوں کے جھوٹے دعوے کا پیشگی مزید رد ہے جنھوں نے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا، مثلاً سجاح نامی عورت۔ چنانچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا، عورتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں، کیونکہ رسول نے مردوں کو بھی دعوت دینا ہوتی ہے، الجھنا بھی پڑتا ہے، جنگ بھی ہوتی ہے اور یہ کام عورت کے بس کے نہیں ہیں۔
➌ { مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى:} اکثر اہل علم اس سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی ہمیشہ شہروں اور بستیوں کے رہنے والوں میں سے آئے ہیں، بادیہ یا صحرا نشینوں سے نہیں آئے، کیونکہ بادیہ نشین قدرتی طور پر غیر سنجیدہ اور سخت طبع ہوتے ہیں۔ مگر ابن عاشور رحمہ اللہ نے فرمایا:”یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں۔“ یعنی جو بات تم کہہ رہے ہو کہ آسمان سے فرشتہ اترنا چاہیے، یہ بات درست نہیں، تمام پیغمبر انسان ہی تھے اور زمین کی بستیوں ہی کے رہنے والے تھے، آسمان سے نہیں اترے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام بدو میں رہتے تھے اور پیغمبر تھے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے فرمایا: «{ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ }» [یوسف: ۱۰۰] یاپھر یہ کہا جائے کہ یعقوب علیہ السلام بھی بستی ہی میں رہتے تھے، مگر ترقی یافتہ اور متمدن شہر مصر کے مقابلے میں اس بستی کنعان کی حیثیت بھی بدو اور صحرا کی تھی، جیسا کہ پیچھے گزرا۔
➍ { اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} کفار آخرت کو تو مانتے نہیں تھے، اس لیے انھیں سمجھانے کے لیے دنیا میں گزرنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے شام کو جاتے ہوئے پہاڑوں کو کھود کر بنائے ہوئے قوم ثمود کے مکانات اور قوم لوط کی بستیوں کی جگہ والاخرابہ اور پھر مصر کے اہرام نہیں دیکھیے کہ انھیں عبرت ہوتی۔
➎ { وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ …:} اگرچہ پچھلے کلام کا تقاضا تھا کہ کہا جاتا کہ ان کفار سے آخرت میں ہونے والا معاملہ اس سے بھی کہیں برا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ان کا ذکر ہی چھوڑ کر متقی لوگوں کا انجام ذکر فرمایا، جس سے ان کا انجام خود بخود ظاہر ہو رہا ہے، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {وما أرسلنا من قبلِكَ إلاَّ رجالاً}؛ أي: لم نرسل ملائكةً ولا غيرهم من أصناف الخلق؛ فلأيِّ شيءٍ يَسْتَغْرِبُ قومك رسالتك، ويزعُمون أنه ليس لك عليهم فضلٌ، فلك فيمَنْ قبلك من المرسلين أسوةٌ حسنةٌ. {نوحي إليهم من أهل القُرى}؛ أي: لا من البادية، بل من أهل القرى، الذين هم أكمل عقولاً وأصحُّ آراء، وليتبيَّن أمرهم ويتَّضح شأنهم. {أفلم يسيروا في الأرض}: إذا لم يصدِّقوا لقولك، {فينظروا كيفَ كان عاقبةُ الذين من قبلهم}: كيف أهلكهم اللهُ بتكذيبهم؛ فاحذروا أن تُقيموا على ما قاموا عليه، فيصيبكم ما أصابهم. {ولَدارُ الآخرة}؛ أي: الجنة وما فيها من النعيم المقيم، {خيرٌ للذين اتَّقَوْا}: الله في امتثال أوامره واجتناب نواهيه؛ فإنَّ نعيم الدُّنيا منغَّصٌ منكَّدٌ منقطعٌ، ونعيم الآخرة تامٌّ كامل لا يفنى أبداً، بل هو على الدوام في تزايدٍ وتواصل. عطاءً غير مجذوذ. {أفلا تعقلون}؛ أي: أفلا يكون لكم عقولٌ تؤثر الذي هو خير على الأدنى؟