تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 90

وَ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ رَحِیۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴿۹۰﴾
اور اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، بے شک میرا رب نہایت رحم والا، بہت محبت والا ہے۔ En
اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے
En
تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو، یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی واﻻ اور بہت محبت کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔ (ودود) (فعول) کے وزن پر فاعل اور مفعول دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واستغفِروا ربَّكم}: عما اقترفتم من الذُّنوب، {ثمَّ توبوا إليه}: فيما يستقبل من أعماركم بالتوبة النَّصوح والإنابة إليه بطاعته وترك مخالفته. {إنَّ ربِّي رحيمٌ ودودٌ}: لمن تاب وأناب؛ يرحمه فيغفر له ويتقبَّل توبته ويحبُّه.

ومعنى الودود من أسمائه تعالى: أنَّه يحبُّ عباده المؤمنين ويحبُّونه؛ فهو فعولٌ بمعنى فاعل ومعنى مفعول.