تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 91

قَالُوۡا یٰشُعَیۡبُ مَا نَفۡقَہُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡنَا ضَعِیۡفًا ۚ وَ لَوۡ لَا رَہۡطُکَ لَرَجَمۡنٰکَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡنَا بِعَزِیۡزٍ ﴿۹۱﴾
انھوں نے کہا اے شعیب! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے اور بے شک ہم تو تجھے اپنے درمیان بہت کمزور دیکھتے ہیں اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم ضرور تجھے سنگسار کر دیتے اور تو ہم پر ہرگز کسی طرح غالب نہیں۔ En
اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو
En
انہوں نے کہا اے شعیب! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں اور ہم تو تجھے اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں، اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو ہم تو تجھے سنگسار کر دیتے، اور ہم تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیں گنتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّؔمَّؔا تَقُوْلُ انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یعنی وہ شعیب علیہ السلام کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیب علیہ السلام کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔
﴿ وَلَوْلَا رَهْطُكَ اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا ﴿ لَرَجَمْنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا يا شعيبُ ما نَفْقَهُ كثيراً مما تقولُ}؛ أي: تضجَّروا من نصائحِهِ ومواعظِهِ لهم، فقالوا: ما نفقهُ كثيراً مما تقولُ، وذلك لبُغْضِهم لما يقولُ ونفرتهم عنه. {وإنَّا لنراك فينا ضعيفاً}؛ أي: في نفسك، لست من الكبار والرؤساء، بل من المستضعفين. {ولولا رهطُكَ}؛ أي: جماعتك وقبيلتك، {لَرَجَمْناك وما أنت علينا بعزيز}؛ أي: ليس لك قَدْرٌ في صدورنا ولا احترامٌ في أنفسنا، وإنما احترمنا قبيلتك بتركنا إياك.