(آیت 90) {اِنَّرَبِّيْرَحِيْمٌوَّدُوْدٌ:} یعنی میرا رب اپنے بندوں پر نہایت رحم کرنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے، اسی لیے اس نے تمھیں پہلے خبردار کرنے کا انتظام فرمایا کہ تم آئندہ کے لیے باز آ جاؤ اور پچھلے کی معافی مانگو اور اپنے اعمال کے انجام بد سے بچ جاؤ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
90۔ اور اپنے پروردگار سے معافی مانگو اور اسی کے آگے توبہ [102] کرو۔ میرا پروردگار یقیناً رحم کرنے والا اور (اپنی مخلوق سے) محبت رکھنے والا ہے
[102] تمہارے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ میری باتوں پر مشتعل ہونے اور چڑنے کے بجائے اللہ سے اپنے پہلے گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ ایسے کام نہ کرنے کا اللہ سے عہد کرو۔ پھر صرف یہی نہیں کہ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا بلکہ تم سے خوش ہو گا اور تم سے محبت بھی کرنے لگے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
میری عداوت میں اپنی بربادی مت مول لو ٭٭
فرماتے ہیں کہ ”میری عداوت اور بعض میں آ کر تم اپنے کفر اور اپنے گناہوں پر جم نہ جاؤ ورنہ تمہیں وہ عذاب پہنچے گا جو تم سے پہلے ایسے کاموں کا ارتکاب کرنے والوں کو پہنچا ہے۔ خصوصاً قوم لوط علیہ السلام جو تم سے قریب زمانے میں ہی گزری ہے اور قریب جگہ میں ہے تم اپنے گذشتہ گناہوں کی معافی مانگو۔ آئندہ کے لیے گناہوں سے توبہ کرو۔ ایسا کرنے والوں پر میرا رب بہت ہی مہربان ہو جاتا ہے اور ان کو اپنا پیارا بنا لیتا ہے۔“ ابو لیلی کندی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ”میں اپنے مالک کا جانور تھامے کھڑا تھا۔ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کو گھیرے ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اوپر سے سر بلند کیا اور یہی آیت تلاوت فرمائی، اور فرمایا ”میری قوم کے لوگو مجھے قتل نہ کرو، تم اسی طرح تھے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کر دکھائیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاسْتَغْفِرُوْارَبَّكُمْ﴾”اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔“ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّتُوْبُوْۤااِلَیْهِ﴾”پھر اس کے حضور توبہ کرو۔“ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّرَبِّیْرَحِیْمٌوَّدُوْدٌ﴾”بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔“ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔ (ودود) (فعول) کے وزن پر ”فاعل“ اور ”مفعول“ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{واستغفِروا ربَّكم}: عما اقترفتم من الذُّنوب، {ثمَّ توبوا إليه}: فيما يستقبل من أعماركم بالتوبة النَّصوح والإنابة إليه بطاعته وترك مخالفته. {إنَّ ربِّي رحيمٌ ودودٌ}: لمن تاب وأناب؛ يرحمه فيغفر له ويتقبَّل توبته ويحبُّه.
ومعنى الودود من أسمائه تعالى: أنَّه يحبُّ عباده المؤمنين ويحبُّونه؛ فهو فعولٌ بمعنى فاعل ومعنى مفعول.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔