تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 89

وَ یٰقَوۡمِ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شِقَاقِیۡۤ اَنۡ یُّصِیۡبَکُمۡ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ ہُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ ؕ وَ مَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡکُمۡ بِبَعِیۡدٍ ﴿۸۹﴾
اور اے میری قوم! میری مخالفت تمھیں اس کا مستحق ہرگز نہ بنادے کہ تمھیں اس جیسی مصیبت آپہنچے جو نوح کی قوم، یا ہود کی قوم، یا صالح کی قوم کو پہنچی اور لوط کی قوم (بھی) ہرگز تم سے کچھ دور نہیں ہے۔ En
اور اے قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں
En
اور اے میری قوم (کے لوگو!) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کا مستحق بنا دے جو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح کو پہنچے ہیں۔ اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثْ٘لُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّؔنْكُمْ بِبَعِیْدٍ جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويا قوم لا يجرمنَّكم شِقاقي}؛ أي: لا تحملنَّكم مخالفتي ومشاقَّتي، {أن يصيبَكُم}: من العقوبات، {مثلُ ما أصاب قومَ نوحٍ أو قومَ هودٍ أو قومَ صالحٍ وما قومُ لوطٍ منكم ببعيد}: لا في الدار ولا في الزمان.