تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَیٰقَوْمِاَوْفُواالْمِكْـیَالَوَالْمِیْزَانَبِالْقِسْطِ ﴾”اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ“ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَاتَبْخَسُواالنَّاسَاَشْیَآءَهُمْ ﴾”اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔“ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَاتَعْثَوْافِیالْاَرْضِمُفْسِدِیْنَ ﴾”اور زمین میں فساد مت مچاؤ“ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويا قوم أوفوا المكيالَ والميزان بالقِسْطِ}؛ أي: بالعدل الذي ترضَوْن أن تعطوه، {ولا تَبخَسوا الناس أشياءهم}؛ أي: لا تنقصوا من أشياء الناس، فتسرقوها بأخذها بنقص المكيال والميزان، {ولا تَعْثَوْا في الأرض مفسِدينَ}: فإنَّ الاستمرار على المعاصي يفسِدُ الأديان والعقائد والدِّين والدُّنيا ويهلِكُ الحرثَ والنسل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔