تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 85

وَ یٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِکۡیَالَ وَ الۡمِیۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ وَ لَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡیَآءَہُمۡ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۸۵﴾
اور اے میری قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد کر تے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔ En
اور قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو
En
اے میری قوم! ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْـیَالَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ اور زمین میں فساد مت مچاؤ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويا قوم أوفوا المكيالَ والميزان بالقِسْطِ}؛ أي: بالعدل الذي ترضَوْن أن تعطوه، {ولا تَبخَسوا الناس أشياءهم}؛ أي: لا تنقصوا من أشياء الناس، فتسرقوها بأخذها بنقص المكيال والميزان، {ولا تَعْثَوْا في الأرض مفسِدينَ}: فإنَّ الاستمرار على المعاصي يفسِدُ الأديان والعقائد والدِّين والدُّنيا ويهلِكُ الحرثَ والنسل.