(آیت 85) ➊ {وَيٰقَوْمِاَوْفُواالْمِكْيَالَوَالْمِيْزَانَبِالْقِسْطِ: } پہلے فرمایا کہ ماپ اور تول میں کمی نہ کرو، اب اس کی مزید تاکید فرمائی کہ ماپ اور تول پورا کرو، نہ دیتے وقت کم دو، نہ لیتے وقت زیادہ لو۔ مزید دیکھیے سورۂ مطففین (۱ تا ۳)۔ ➋ { وَلَاتَبْخَسُواالنَّاسَاَشْيَآءَهُمْ:} پہلے ماپ تول کا خاص طور پر ذکر فرمایا، اب لینے دینے کے ہر طریقے کو ان الفاظ کے ذریعے سے شامل کر لیا، مثلاً کسی بھی طرح کے میٹروں کے ذریعے، یا گننے کے ذریعے، غرض کسی بھی طرح لوگوں کو ان کی چیز کم مت دو، نہ زیادہ لو۔ ➌ {وَلَاتَعْثَوْافِيالْاَرْضِمُفْسِدِيْنَ: ”عَثِيَيَعْثٰي“} بروزن{ ”رَضِيَيَرْضٰي“ } حد سے بڑھ کر فساد کرنا، مثلاً ان کی عادت تھی کہ اگر کم ماپ تول کے خلاف کوئی شخص احتجاج کرتا تو سب مل کر اس پر حملہ آور ہو جاتے۔ اسی طرح موقع ملتا تو ڈاکے مارتے اور لوگوں سے چیزیں چھین لیتے۔ خلاصہ یہ کہ شعیب علیہ السلام نے انھیں ہر قسم کے فساد سے منع فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
85۔ 1 انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت دو اہم بنیادوں پر مشتمل ہوتی ہے 1۔ حقوق اللہ کی ادائیگی 2، حقوق العباد کی ادائیگی۔ اول الذکر کی طرف لفظ (اَعْبُدُواللّٰہَ) اور آخر الذکر کی جانب (وَلَاتَنْقُصُواالْمِكْيَالَوَالْمِيْزَانَ) 11۔ ہود:84) سے اشارہ کیا گیا اور اب تاکید کے طور پر انھیں انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپ تول کا حکم دیا جا رہا ہے اور لوگوں کو چیزیں کم کر کے دینے سے منع کیا جا رہا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بھی ایک بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورت میں اس جرم کی شناعت و قباحت اور اس کی اخروی سزا بیان فرمائی ہے۔ (وَيْلٌلِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ۙ الَّذِيْنَاِذَااكْتَالُوْاعَلَيالنَّاسِيَسْتَوْفُوْنَ ڮ وَاِذَاكَالُوْهُمْاَوْوَّزَنُوْهُمْيُخْسِرُوْنَ ۭ) 83۔ الطففین:1 تا 3) مطففین کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب دوسروں کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں، تو کم کر کے دیتے ہیں 85۔ 2 اللہ کی نافرمانی سے، بالخصوص جن کا تعلق حقوق العباد سے ہو، جیسے یہاں ناپ تول کی کمی بیشی میں ہے، زمین میں یقیناً فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس سے انھیں منع کیا گیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
85۔ اور اے قوم! ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی اشیاء کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ناپ تول میں انصاف کرو ٭٭
پہلے تو اپنی قوم کو ناپ تول کی کمی سے روکا۔ اب لین دین کے دونوں وقت عدل و انصاف کے ساتھ پورے پورے ناپ تول کا حکم دیتے ہیں۔ اور زمین میں فساد اور تباہ کاری کرنے کو منع کرتے ہیں۔ ان میں رہزنی اور ڈاکے مارنے کی بد خصلت بھی تھی۔ لوگوں کے حق مار کر نفع اٹھانے سے اللہ کا دیا ہوا نفع بہت بہتر ہے۔ اللہ کی یہ وصیت تمہارے لیے خیریت لیے ہوئے ہے۔ عذاب سے جیسے ہلاکت ہوتی ہے اس کے مقابلے میں رحمت سے برکت ہوتی ہے۔ ٹھیک تول کر پورے ناپ کر حلال سے جو نفع ملے اسی میں برکت ہوتی ہے۔ «قُللَّايَسْتَوِيالْخَبِيثُوَالطَّيِّبُوَلَوْأَعْجَبَكَكَثْرَةُالْخَبِيثِ»۱؎[5-المائدہ:100] ’ خبیث و طیب میں کیا مساوات؟ دیکھو میں تمہیں ہر وقت دیکھ نہیں رہا۔ تمہیں برائیوں کا ترک اور نیکیوں کا فعل اللہ ہی کے لیے کرنا چاہیئے نہ کہ دنیا دکھاوے کے لیے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَیٰقَوْمِاَوْفُواالْمِكْـیَالَوَالْمِیْزَانَبِالْقِسْطِ ﴾”اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ“ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَاتَبْخَسُواالنَّاسَاَشْیَآءَهُمْ ﴾”اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔“ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَاتَعْثَوْافِیالْاَرْضِمُفْسِدِیْنَ ﴾”اور زمین میں فساد مت مچاؤ“ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويا قوم أوفوا المكيالَ والميزان بالقِسْطِ}؛ أي: بالعدل الذي ترضَوْن أن تعطوه، {ولا تَبخَسوا الناس أشياءهم}؛ أي: لا تنقصوا من أشياء الناس، فتسرقوها بأخذها بنقص المكيال والميزان، {ولا تَعْثَوْا في الأرض مفسِدينَ}: فإنَّ الاستمرار على المعاصي يفسِدُ الأديان والعقائد والدِّين والدُّنيا ويهلِكُ الحرثَ والنسل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔