تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 86

بَقِیَّتُ اللّٰہِ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ۬ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ ﴿۸۶﴾
اللہ کا باقی بچا ہوا تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو اور میں ہرگز تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں۔ En
اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں
En
اللہ تعالی کا حلال کیا ہوا جو بچ رہے تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو، میں تم پر کچھ نگہبان (اور داروغہ) نہیں ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّـكُمْ جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ اگر تم مومن ہو پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{بقيةُ الله خيرٌ لكم}؛ أي: يكفيكم ما أبقى الله لكم من الخير وما هو لكم؛ فلا تطمَعوا في أمرٍ لكم عنه غُنيةٌ وهو ضارٌّ لكم جدًّا، {إن كنتُم مؤمنينَ}: فاعملوا بمقتضى الإيمان. {وما أنا عليكم بحفيظٍ}؛ أي: لست بحافظٍ لأعمالكم ووكيل عليها، وإنَّما الذي يحفظها الله تعالى، وأمَّا أنا فأبلِّغكم ما أرسلتُ به.