تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 84

وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ وَ لَا تَنۡقُصُوا الۡمِکۡیَالَ وَ الۡمِیۡزَانَ اِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ بِخَیۡرٍ وَّ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ مُّحِیۡطٍ ﴿۸۴﴾
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں اور ماپ اور تول کم نہ کرو، بے شک میں تمھیں اچھی حالت میں دیکھتا ہوں اور بے شک میں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتاہوں۔ En
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا
En
اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو میں تو تمہیں آسوده حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِلٰى مَدْیَنَ اور مدین کی طرف بھیجا مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمْ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَیْبًا شعیب علیہ السلام کو۔ گویا وہ جناب شعیب علیہ السلام کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ شعیب علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰ٘هٍ غَیْرُهٗ اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیب علیہ السلام نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْـیَالَ وَالْمِیْزَانَ اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں۔ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و} أرسلنا {إلى مدينَ}: القبيلة المعروفة، الذين يسكنون مَدْيَنَ، في أدنى فلسطين، {أخاهم}: في النسب، {شُعيباً}: لأنَّهم يعرفونه ويتمكَّنون من الأخذ عنه، فقال لهم: {يا قومِ اعبُدوا الله ما لكم من إلهٍ غيرُه}؛ أي: أخلصوا له العبادة؛ فإنَّهم كانوا يشرِكون [به]، وكانوا مع شركهم يَبْخَسون المكيال والميزان، ولهذا نهاهم عن ذلك، فقال: {ولا تَنقُصوا المِكْيال والميزانَ}: بل أوفوا الكيل والميزان بالقسط. {إني أراكُم بخيرٍ}؛ أي: بنعمة كثيرةٍ وصحَّة وكثرة أموال وبنين؛ فاشكُروا الله على ما أعطاكم، ولا تكفروا بنعمة الله فيزيلها عنكم. {وإنِّي أخافُ عليكم عذابَ يوم محيطٍ}؛ أي: عذاباً يحيط بكم ولا يُبقي منكم باقيةً.