تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 83

مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ ؕ وَ مَا ہِیَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ بِبَعِیۡدٍ ﴿٪۸۳﴾
جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔ En
جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں
En
تیرے رب کی طرف سے نشان دار تھے اور وه ان ﻇالموں سے کچھ بھی دور نہ تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{مسوَّمةً عند ربِّك}؛ أي: معلمة عليها علامة العذاب والغضب، {وما هي من الظالمينَ}: الذين يشابهون لفعل قوم لوطٍ، {ببعيد}: فليحذرِ العبادُ أن يفعلوا كفعلهم؛ لئلاَّ يصيبَهم ما أصابهم.