ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 84

وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ وَ لَا تَنۡقُصُوا الۡمِکۡیَالَ وَ الۡمِیۡزَانَ اِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ بِخَیۡرٍ وَّ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ مُّحِیۡطٍ ﴿۸۴﴾
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں اور ماپ اور تول کم نہ کرو، بے شک میں تمھیں اچھی حالت میں دیکھتا ہوں اور بے شک میں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتاہوں۔ En
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا
En
اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو میں تو تمہیں آسوده حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 84) ➊ {وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًاقَالَ يٰقَوْمِ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۵ تا ۹۳) اور سورۂ شعراء (۱۷۶ تا ۱۹۰) مکیال اور کیل سے مراد کسی مقرر پیمانے کے برتن مثلاً صاع (ٹوپہ وغیرہ) میں ڈال کر غلے وغیرہ کو ماپنا اور میزان اور وزن کا معنی ترازو وغیرہ سے تولنا ہے۔
➋ { اِنِّيْۤ اَرٰىكُمْ:} یعنی تم اچھے خاصے خوش حال ہو، پھر اس قسم کی بے ایمانی اور فریب کاری کی کیا ضرورت ہے۔
➌ { عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ:} یعنی آخرت کا عذاب یا دنیا ہی میں اس دن کا عذاب جس کے گھیرے سے کوئی نکل نہ سکے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

84۔ 1 مدین کی تحقیق کے لئے دیکھئے سورة الا عراف، آیت 85 کا حاشیہ۔ 84۔ 2 توحید کی دعوت دینے کے بعد اس قوم میں جو نمایاں اخلاقی خرابی۔ ناپ تول میں کمی کی تھی اس سے انھیں منع فرمایا۔ ان کا معمول بن چکا تھا جب ان کے پاس فروخت کندہ (بائع) اپنی چیز لے کر آتا تو اس سے ناپ اور تول میں زائد چیز لیتے اور جب خریدار (مشتری) کو کوئی چیز فروخت کرتے تو ناپ میں بھی کمی کر کے دیتے اور تول میں ڈنڈی مار لیتے۔ 84۔ 3 یہ اس منع کرنے کی علت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا فضل کر رہا ہے اور اس نے تمہیں آسودگی اور مال و دولت سے نوازا ہے تو پھر تم یہ قبیح حرکت کیوں کرتے ہو۔ 84۔ 4 یہ دوسری علت ہے کہ اگر تم اپنی اس حرکت سے باز نہ آئے تو پھر اندیشہ ہے کہ قیامت والے دن کے عذاب سے تم نہ بچ سکو۔ گھیرنے والے دن سے مراد قیامت کا دن ہے کہا اس دن کوئی گناہ گار مواخذہ الہی سے بچ سکے گا نہ بھاگ کر کہیں چھپ سکے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

84۔ اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب [95] کو بھیجا انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اور ناپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تمہیں خوشحال دیکھ رہا ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ تم پر ایسا عذاب آئے گا جو تمہیں ہر طرف سے گھیرے گا
[95] شرک ام الامراض ہے:۔
سیدنا شعیبؑ کا قصہ بھی سورۃ اعراف کی آیت نمبر 84 تا 95 میں گذر چکا ہے لہٰذا وہ حواشی بھی پیش نظر رکھنے چاہئیں۔ شرک ایسی بیماری ہے جو تقریباً ہر قوم میں پائی جاتی ہے اور بالخصوص ان اقوام میں ضرور موجود تھی جن کی طرف انبیاء مبعوث ہوتے رہے باقی تمام اخلاقی اور معاشرتی بیماریاں اور برائیاں اسی شرک سے ہی پھوٹتی ہیں گویا جس طرح جسمانی بیماریوں میں قبض کو ام الامراض قرار دیا گیا ہے اسی طرح روحانی بیماریوں میں شرک ام الامراض ہے۔ شرک سے اجتناب اور توحید کے عقیدہ سے معاشرہ کی اصلاح کیسے ہوتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت کا پہلا ہدف یہی مرض رہا ہے انبیاء شرک کی تردید کے ساتھ ساتھ توحید کی دعوت دیتے اور ایمان لانے والوں میں اللہ کی صحیح معرفت پیدا کرتے ہیں جس سے دلوں میں تقویٰ یا خشیت الٰہی پیدا ہوتا ہے اور یہ تقویٰ ہی ایسی چیز ہے جو تمام معاشرتی اور اخلاقی بیماریوں کے لئے شفا کا حکم رکھتا ہے۔ شرک کے علاوہ بعض قوموں میں بعض مخصوص برائیاں بھی ہوتی ہیں جیسے قوم لوط جو لونڈے بازی کی لعنت میں گرفتار تھے۔ قوم شعیب تجارتی کاروبار میں بے ایمانی کرتے تھے۔ قوم فرعون نے بنو اسرائیل پر قیامت ڈھا رکھی تھی۔ شرک کے بعد انبیاء کی دعوت کا دوسرا ہدف ایسی ہی مخصوص بیماریاں ہوتی ہیں۔ اہل مدین دو تجارتی شاہراہوں کے چوک میں واقع تھے اور یہ علاقہ اس وجہ سے نہایت اہم تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ یہ لوگ صرف ناپ تول کے پیمانوں میں ہی ہاتھ کی صفائی نہیں دکھاتے تھے بلکہ ہر وہ بد دیانتی کرنا جانتے تھے جس کی وجہ سے دوسرے کا حق مارا جا سکے۔ اسی لیے شعیبؑ نے شرک کے بعد انھیں ایسی ہی تجارتی بد دیانتیاں چھوڑنے کی نصیحت کی اور ان کی یہی کرتوتیں فساد فی الارض کے مترادف تھیں جن کے ذریعہ وہ دوسروں کے حق غصب کیا کرتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اہل مدین کی جانب شعیب علیہ السلام کی آمد ٭٭
عرب کا قبیلہ جو حجاز و شام کے درمیان معان کے قریب رہتا تھا ان کے شہروں کا نام اور خود ان کا نام بھی مدین تھا۔ ان کی جانب اللہ تعالیٰ کے نبی شعیب علیہ السلام بھیجے گئے۔ آپ علیہ السلام ان میں شریف النسب اور اعلی خاندان کے تھے اور انہیں میں سے تھے۔ اسی لیے «أَخَاهُمْ شُعَيْبًا» کے لفظ سے بیان کیا یعنی ان کے بھائی۔
آپ علیہ السلام نے بھی انبیاء علیہم السلام کی عادت اور سنت اور اللہ کے پہلے اور تاکیدی حکم کے مطابق اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی ناپ تول کی کمی سے روکا کہ کسی کا حق نہ مارو، اور اللہ کا یہ احسان یاد لایا کہ اس نے تمہیں فارغ البال اور آسودہ حال کر رکھا ہے۔ اور اپنا ڈر ظاہر کیا کہ اپنی مشرکانہ روش اور ظالمانہ حرکت سے اگر باز نہ آؤ گے تو تمہاری یہ اچھی حالت بد حالی سے بدل جائے گی۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِلٰى مَدْیَنَ اور مدین کی طرف بھیجا مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمْ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَیْبًا شعیب علیہ السلام کو۔ گویا وہ جناب شعیب علیہ السلام کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ شعیب علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰ٘هٍ غَیْرُهٗ اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیب علیہ السلام نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْـیَالَ وَالْمِیْزَانَ اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں۔ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و} أرسلنا {إلى مدينَ}: القبيلة المعروفة، الذين يسكنون مَدْيَنَ، في أدنى فلسطين، {أخاهم}: في النسب، {شُعيباً}: لأنَّهم يعرفونه ويتمكَّنون من الأخذ عنه، فقال لهم: {يا قومِ اعبُدوا الله ما لكم من إلهٍ غيرُه}؛ أي: أخلصوا له العبادة؛ فإنَّهم كانوا يشرِكون [به]، وكانوا مع شركهم يَبْخَسون المكيال والميزان، ولهذا نهاهم عن ذلك، فقال: {ولا تَنقُصوا المِكْيال والميزانَ}: بل أوفوا الكيل والميزان بالقسط. {إني أراكُم بخيرٍ}؛ أي: بنعمة كثيرةٍ وصحَّة وكثرة أموال وبنين؛ فاشكُروا الله على ما أعطاكم، ولا تكفروا بنعمة الله فيزيلها عنكم. {وإنِّي أخافُ عليكم عذابَ يوم محيطٍ}؛ أي: عذاباً يحيط بكم ولا يُبقي منكم باقيةً.