تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا: ﴿ یٰۤاِبْرٰهِیْمُاَعْرِضْعَنْهٰؔذَا﴾”اے ابراہیم اس سے اعراض کریے“ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗقَدْجَآءَاَمْرُرَبِّكَ﴾”تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔“ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمْاٰتِیْهِمْعَذَابٌغَیْرُمَرْدُوْدٍ ﴾”اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا“ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقيل له: {يا إبراهيمُ أعْرِضْ عن هذا}: الجدال. {إنَّه قد جاءَ أمرُ ربِّك}: بهلاكهم، {وإنَّهم آتيهم عذابٌ غيرُ مردودٍ}: فلا فائدة في جدالك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔