تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّاِبْرٰهِیْمَلَحَلِیْمٌ ﴾”بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔“ یعنی ابراہیم علیہ السلام اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾”نرم دل تھے“ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِیْبٌ ﴾”رجوع کرنے والے تھے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ إبراهيم لحليمٌ}؛ أي: ذو خُلُق [حسنٍ] وسعة صدر وعدم غضب عند جهل الجاهلين، {أوَّاهٌ}؛ أي: متضرِّع إلى الله في جميع الأوقات، {منيبٌ}؛ أي: رجَّاع إلى الله بمعرفته ومحبَّته والإقبال عليه والإعراض عمَّن سِواه؛ فلذلك كان يجادِلُ عن مَنْ حَتَّم الله بهلاكهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔