(آیت 76) {يٰۤاِبْرٰهِيْمُاَعْرِضْعَنْهٰذَا …:} یہ فرشتوں کی بات ہے جو بالآخر انھوں نے ابراہیم علیہ السلام سے کہی کہ اب بحث و تکرار کا کچھ فائدہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آ جانے کے بعد عذاب ٹلنے کی کوئی صورت نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
76۔ 1 یہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم ؑ سے کہا کہ اب اس بحث و تکرار کا کوئی فائدہ نہیں، اسے چھوڑیئے اللہ کا وہ حکم (ہلاکت کا) آچکا ہے، جو اللہ کے ہاں مقدر تھا۔ اور اب یہ عذاب نہ کسی کے مجادلے سے روکے گا نہ کسی کی دعا سے ٹلے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ فرشتوں نے کہا: ابراہیم! اس قصہ کو چھوڑو۔ اب تو تمہارے پروردگار کا حکم آ چکا۔ اب انھیں عذاب آ کے [86] رہے گا جو ٹل نہیں سکتا
[86] فرشتوں نے جواب دیا کہ اب اس بحث کا کچھ فائدہ نہیں اللہ تعالیٰ ان پر عذاب کا فیصلہ کر چکا ہے اور ہمیں اس نے اسی غرض کے لیے مامور کر دیا ہے۔ لہٰذا اب یہ موخر نہیں ہو سکتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا: ﴿ یٰۤاِبْرٰهِیْمُاَعْرِضْعَنْهٰؔذَا﴾”اے ابراہیم اس سے اعراض کریے“ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗقَدْجَآءَاَمْرُرَبِّكَ﴾”تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔“ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمْاٰتِیْهِمْعَذَابٌغَیْرُمَرْدُوْدٍ ﴾”اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا“ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقيل له: {يا إبراهيمُ أعْرِضْ عن هذا}: الجدال. {إنَّه قد جاءَ أمرُ ربِّك}: بهلاكهم، {وإنَّهم آتيهم عذابٌ غيرُ مردودٍ}: فلا فائدة في جدالك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔