تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 77

وَ لَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوۡطًا سِیۡٓءَ بِہِمۡ وَ ضَاقَ بِہِمۡ ذَرۡعًا وَّ قَالَ ہٰذَا یَوۡمٌ عَصِیۡبٌ ﴿۷۷﴾
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔ En
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے
En
جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا دن ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا اور جب ہمارے فرشتے آئے۔ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ لوط علیہ السلام کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔ ﴿ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ هٰؔذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوط علیہ السلام کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولما جاءت رسُلُنا}؛ أي: الملائكة الذين صدروا من إبراهيم، لما أتوا {لوطاً سيء بهم}؛ أي: شقَّ عليه مجيئهم، {وضاق بهم ذَرْعاً وقال هذا يومٌ عصيبٌ}؛ أي: شديدٌ حرجٌ؛ لأنَّه علم أنَّ [قومَه] لا يتركونَهم؛ لأنَّهم في صور شباب جردٍ مردٍ في غاية الكمال والجمال.