جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا دن ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَمَّاجَآءَتْرُسُلُنَا ﴾”اور جب ہمارے فرشتے آئے۔“ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوْطًاسِیْٓءَبِهِمْ﴾”لوط علیہ السلام کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔“﴿ وَضَاقَبِهِمْذَرْعًاوَّقَالَهٰؔذَایَوْمٌعَصِیْبٌ ﴾”اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے“ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوط علیہ السلام کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولما جاءت رسُلُنا}؛ أي: الملائكة الذين صدروا من إبراهيم، لما أتوا {لوطاً سيء بهم}؛ أي: شقَّ عليه مجيئهم، {وضاق بهم ذَرْعاً وقال هذا يومٌ عصيبٌ}؛ أي: شديدٌ حرجٌ؛ لأنَّه علم أنَّ [قومَه] لا يتركونَهم؛ لأنَّهم في صور شباب جردٍ مردٍ في غاية الكمال والجمال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔