تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَلَمَّاذَهَبَعَنْاِبْرٰهِیْمَالرَّوْعُ ﴾”جب ابراہیم سے خوف دور ہوا“ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتْهُالْ٘بُشْ٘رٰى ﴾”اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی“ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّفِیْهَالُوْطًا١ؕقَالُوْانَحْنُاَعْلَمُبِمَنْفِیْهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ۠وَاَهْلَهٗۤاِلَّاامْرَاَتَهٗ﴾ (العنکبوت: 29؍32) ”کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلما ذَهَبَ عن إبراهيم الرَّوْعُ}: الذي أصابه من خيفة أضيافه، {وجاءتْه البُشرى}: بالولد؛ التفتَ حينئذٍ إلى مجادلة الرسل في إهلاك قوم لوطٍ، وقال لهم: {إنَّ فيها لوطاً. قالوا نحنُ أعلمُ بمَن فيها لَنُنَجِيَنَّه وأهْلَه إلاَّ امرأتَهُ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔