(آیت 75){ اِنَّاِبْرٰهِيْمَلَحَلِيْمٌاَوَّاهٌمُّنِيْبٌ:} اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و تکرار کا برا نہ مانا، بلکہ نہایت پیار سے ان کا ذکر فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
75۔ بلا شبہ ابراہیم بڑے بردبار، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابراہیم علیہ السلام کی بردباری اور سفارش ٭٭
مہمانوں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کے دل میں جو دہشت سمائی تھی، ان کا حل کھل جانے پر وہ دور ہو گئی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی خوشخبری بھی سن لی۔ «وَلَمَّاجَاءَتْرُسُلُنَاإِبْرَاهِيمَبِالْبُشْرَىٰقَالُواإِنَّامُهْلِكُوأَهْلِهَـٰذِهِالْقَرْيَةِإِنَّأَهْلَهَاكَانُواظَالِمِينَ»۱؎[29-العنکبوت:31] اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے بھیجے گئے ہیں تو آپ علیہ السلام فرمانے لگے کہ اگر کسی بستی میں تین سو مومن ہوں کیا پھر بھی وہ بستی ہلاک کی جائے گی؟ جبرائیل علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ اگر چالیس ہوں؟ جواب ملا پھر بھی نہیں۔ دریافت کیا اگر تیس ہوں۔ کہا گیا پھر بھی نہیں۔ یہاں تک کے تعداد گھٹاتے گھٹاتے پانچ کی بابت پوچھا تو فرشتوں نے یہی جواب دیا۔ پھر ایک ہی کی نسبت سوال کیا اور یہی جواب ملا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «قَالَإِنَّفِيهَالُوطًاقَالُوانَحْنُأَعْلَمُبِمَنفِيهَالَنُنَجِّيَنَّهُوَأَهْلَهُإِلَّاامْرَأَتَهُكَانَتْمِنَالْغَابِرِينَ»۱؎[29-العنکبوت:32] ’ پھر اس بستی کو لوط علیہ السلام کی موجودگی میں تم کیسے ہلاک کرو گے؟ فرشتوں نے کہا ہمیں وہاں لوط کی موجودگی کا علم ہے اسے اور اس کے اہل خانہ کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے ‘۔ اب آپ علیہ السلام کو اطمینان ہو اور خاموش ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام بردبار، نرم دل اور رجوع رہنے والے تھے اس آیت کی تفسیر پہلے سورۃ التوبہ میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر علیہ السلام کی بہترین صفتیں بیان فرمائیں ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی اس گفتگو اور سفارش کے جواب میں فرمان باری ہوا کہ ’ اب آپ علیہ السلام اس سے چشم پوشی کیجئے۔ قضاء حق نافذ و جاری ہوگئی اب عذاب آئے گا اور وہ لوٹایا نہ جائے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّاِبْرٰهِیْمَلَحَلِیْمٌ ﴾”بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔“ یعنی ابراہیم علیہ السلام اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾”نرم دل تھے“ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِیْبٌ ﴾”رجوع کرنے والے تھے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ إبراهيم لحليمٌ}؛ أي: ذو خُلُق [حسنٍ] وسعة صدر وعدم غضب عند جهل الجاهلين، {أوَّاهٌ}؛ أي: متضرِّع إلى الله في جميع الأوقات، {منيبٌ}؛ أي: رجَّاع إلى الله بمعرفته ومحبَّته والإقبال عليه والإعراض عمَّن سِواه؛ فلذلك كان يجادِلُ عن مَنْ حَتَّم الله بهلاكهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔