تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 50

وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۰﴾
اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ تم تو محض جھوٹ باندھنے والے ہو۔ En
اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (کو بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم! خدا ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو
En
اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو ہم نے بھیجا، اس نے کہا میری قوم والو! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو صرف بہتان باندھ رہے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِلٰى عَادٍ اور عاد کی طرف یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا عاد ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمْ ان کے بھائی۔ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوْدًا ہود کو تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں۔ ﴿قَالَ ہود علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰ٘هٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم بہتان باندھتے ہو یعنی ہود علیہ السلام نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و} أرسلنا {إلى عادٍ}: وهم القبيلة المعروفة في الأحقاف من أرض اليمن، {أخاهم}: في النسب، {هوداً}: ليتمكَّنوا من الأخذ عنه والعلم بصدقه، فقال لهم: {اعبُدوا الله ما لكم من إلهٍ غيرُه إنْ أنتُم إلاَّ مفتَرون}؛ أي: أمرهم بعبادة الله وحده، ونهاهم عمَّا هم عليه من عبادة غير الله، وأخبرهم أنَّهم قد افتَرَوا على الله الكذب في عبادتهم لغيره وتجويزهم لذلك، ووَضَّحَ لهم وجوب عبادة الله وفساد عبادة ما سواه.