اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ تم تو محض جھوٹ باندھنے والے ہو۔
En
اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (کو بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم! خدا ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو
اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو ہم نے بھیجا، اس نے کہا میری قوم والو! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو صرف بہتان باندھ رہے ہو
En
(آیت 50) ➊ {وَاِلٰىعَادٍاَخَاهُمْهُوْدًاقَالَيٰقَوْمِ …: ”هُوْدًا“} عطف بیان ہے{”اَخَاهُمْ“} سے۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۶۵) اے مشرکو! اے کافرو! کے بجائے {”يٰقَوْمِ“} (اے میری قوم!)سے مخاطب کرنے سے ان کے ساتھ اپنا تعلق اور خیر خواہی ظاہر کرنا مقصود ہے۔ ➋ {اِنْاَنْتُمْاِلَّامُفْتَرُوْنَ: ”مُفْتَرُوْنَ“”فَرَي“} سے باب افتعال ({اِفْتِرَاءٌ}) کا اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ افترا یعنی جان بوجھ کر ایسا جھوٹ بولنا جس کے متعلق بولنے والے کو بھی معلوم ہو کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یعنی اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی ہے ہی نہیں، تمھارا کسی غیر کو معبود بنانا محض افترا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
50۔ 1 بھائی سے مراد انہی کی قوم کا ایک فرد۔ 50۔ 2 یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا کر تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ اور عاد کی طرف ہم [56] نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے کہا: ”اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، جس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ تم نے تو محض [57] جھوٹ گھڑ رکھے ہیں
[56] قوم عاد کا بیان پہلے سورۃ اعراف کی آیت نمبر 65 تا 72 میں گذر چکا ہے لہٰذا وہ حواشی بھی ملحوظ رکھے جائیں۔ [57] یعنی اپنے معبودوں کے متعلق جو عقائد تم نے خود ہی گھڑ رکھے ہیں ان کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں عقائد کے علاوہ ان معبودوں کے مجسمے بھی تمہارے خود ساختہ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قوم ہود کی تاریخ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہود علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول علیہ السلام بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی، اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا، اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اور توبہ کرو، آئندہ کے لیے گناہوں سے رک جاؤ۔ یہ دونوں باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اس کی روزی اس پر آسان کرتا ہے۔ اس کا کام اس پر سہل کرتا ہے۔ اس کی نشانی کی حفاظت کرتا ہے۔ سنو ایسا کرنے سے «يُرْسِلِالسَّمَاءَعَلَيْكُممِّدْرَارًا»[71-نوح:11] تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی اور تمہاری قوت وطاقت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گی۔ حدیث شریف میں ہے { جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے، ہر تنگی سے کشادگی عطا فرماتا ہے اور روزی تو اسی جگہ سے پہنچاتا ہے جو خود اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ ۱؎[سنن ابوداود:1508،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاِلٰىعَادٍ ﴾”اور عاد کی طرف“ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ”عاد“ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمْ ﴾”ان کے بھائی۔“ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوْدًا﴾”ہود کو“ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں۔ ﴿قَالَ ﴾ ہود علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ یٰقَوْمِاعْبُدُوااللّٰهَمَالَكُمْمِّنْاِلٰ٘هٍغَیْرُهٗ١ؕاِنْاَنْتُمْاِلَّامُفْتَرُوْنَ ﴾”اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم بہتان باندھتے ہو“ یعنی ہود علیہ السلام نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {و} أرسلنا {إلى عادٍ}: وهم القبيلة المعروفة في الأحقاف من أرض اليمن، {أخاهم}: في النسب، {هوداً}: ليتمكَّنوا من الأخذ عنه والعلم بصدقه، فقال لهم: {اعبُدوا الله ما لكم من إلهٍ غيرُه إنْ أنتُم إلاَّ مفتَرون}؛ أي: أمرهم بعبادة الله وحده، ونهاهم عمَّا هم عليه من عبادة غير الله، وأخبرهم أنَّهم قد افتَرَوا على الله الكذب في عبادتهم لغيره وتجويزهم لذلك، ووَضَّحَ لهم وجوب عبادة الله وفساد عبادة ما سواه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔