تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 51

یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾
اے میری قوم! میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، میری مزدوری اس کے سوا کسی پر نہیں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے؟ En
میری قوم! میں اس (وعظ و نصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمّے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں؟
En
اے میری قوم! میں تم سے اس کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے تو کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔؔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں۔ ﴿ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَ٘رَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر عدم المانع لهم من الانقياد، فقال: {يا قومِ لا أسألُكم عليه أجراً}؛ أي: غرامة من أموالكم على ما دعوتكم إليه فتقولوا: هذا يريدُ أن يأخذَ أموالنا، وإنما أدعوكم وأعلِّمكم مجاناً. {إن أجْرِيَ إلاَّ على الذي فطرني أفلا تعقلون}: ما أدعوكم إليه وأنَّه موجبٌ لقبوله، منتفٍ المانع عن ردِّه.