یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم، پس صبر کر، بے شک اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔
En
یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے
یہ خبریں غیب کی خبروں میں سے ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں انہیں اس سے پہلے آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، اس لئے آپ صبر کرتے رہیئے (یقین مانیئے) کہ انجام کار پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿تِلْكَمِنْاَنْۢبـَآءِالْغَیْبِنُوْحِیْهَاۤاِلَیْكَ١ۚمَاكُنْتَتَعْلَمُهَاۤاَنْتَوَلَاقَوْمُكَمِنْقَبْلِهٰؔذَا﴾”یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے“ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّالْعَاقِبَةَلِلْمُتَّقِیْنَ ﴾”بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے“ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوح علیہ السلام کی قوم کے مقابلے میں نوح علیہ السلام کا انجام اچھا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله لنبيِّه محمد - صلى الله عليه وسلم - بعدما قصَّ عليه هذه القصة المبسوطة التي لا يعلمها إلاَّ مَنْ مَنَّ عليه برسالته: {تلك من أنباء الغيبِ نوحيها إليكَ ما كنتَ تعلمُها أنت ولا قومُك مِن قَبْلِ هذا}: فيقولوا: إنَّه كان يعلمها؛ فاحمدِ الله واشكُرْه واصبرْ على ما أنت عليه من الدِّين القويم والصِّراط المستقيم والدَّعوة إلى الله. {إنَّ العاقبةَ للمتَّقين}: الذين يتَّقون الشرك وسائر المعاصي، فستكون لك العاقبةُ على قومِكَ كما كانت لنوح على قومِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔