تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 39

فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخۡزِیۡہِ وَ یَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۳۹﴾
پس تم جلد ہی جان لوگے کہ وہ کون ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب اترتا ہے۔ En
اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے اور جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے
En
تمیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے اور اس پر ہمیشگی کی سزا اتر آئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَیَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فسوفَ تعلمونَ مَن يأتيه عذابٌ يُخْزيه ويَحِلُّ عليه عذابٌ مقيمٌ}: نحنُ أم أنتم؟ وقد علموا ذلك حين حلَّ بهم العقاب.