یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا اس میں ہر چیز میں سے دو قسمیں (نر و مادہ) دونوں کو اور اپنے گھر والوں کو سوار کر لے، سوائے اس کے جس پر پہلے بات ہوچکی اور ان کو بھی جو ایمان لے آئے اور اس کے ہمراہ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کوئی ایمان نہیں لایا۔
En
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا ہم نے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے (جانداروں میں سے) جوڑے (یعنی) دو (جانور، ایک نر اور ایک ماده) سوار کرا لے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی، سوائے ان کے جن پر پہلے سے بات پڑ چکی ہے اور سب ایمان والوں کو بھی، اس کے ساتھ ایمان ﻻنے والے بہت ہی کم تھے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ حَتّٰۤىاِذَاجَآءَاَمْرُنَا ﴾”یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔“ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَالتَّنُّوْرُ﴾”اور جوش مارا تنور نے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلْنَا ﴾”اور ہم نے کہا۔“ یعنی ہم نے نوح علیہ السلام سے کہا ﴿ احْمِلْفِیْهَامِنْكُ٘لٍّزَوْجَیْنِاثْنَیْنِ﴾”ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں۔“ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهْلَكَاِلَّامَنْسَبَقَعَلَیْهِالْقَوْلُ ﴾”اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم“ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں، مثلاً:نوح علیہ السلام کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں۔ ﴿ وَمَنْاٰمَنَ﴾”اور سب ایمان والوں کو“﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤاٰمَنَمَعَهٗۤاِلَّاقَلِیْلٌ ﴾”ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{حتَّى إذا جاء أمرُنا}؛ أي: قدرُنا بوقتِ نزول العذاب بهم، {وفار التنُّور}؛ أي: أنزل الله السماء بالماء المنهمر، وفجَّر الأرض كلَّها عيوناً، حتى التنانير التي هي محلُّ النار في العادة وأبعد ما يكون عن الماء تفجَّرت، فالتقى الماءُ على أمرٍ قد قُدِرَ، {قُلْنا} لنوح: {احملْ فيها مِن كلٍّ زوجين اثنين}؛ أي: من كلِّ صنف من أصناف المخلوقات ذكر وأنثى؛ لتبقى مادَّة سائر الأجناس، وأما بقيَّة الأصناف الزائدة عن الزوجين؛ فلأنَّ السفينة لا تُطيق حملها، {وأهْلَكَ إلاَّ مَن سَبَقَ عليه القولُ}: ممَّن كان كافراً؛ كابنه الذي غرق. {ومَنْ آمن و} ـ الحال أنه ـ {ما آمَنَ معه إلا قليلٌ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔