اور وہ کشتی بناتا رہا اور جب کبھی اس کے پاس سے اس کی قوم کے کوئی سردار گزرتے اس سے مذاق کرتے۔ وہ کہتا اگر تم ہم سے مذاق کرتے ہو تو یقینا ہم تم سے مذاق کرتے ہیں، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔
En
تو نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اس طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے
وه (نوح) کشتی بنانے لگے ان کی قوم کے جو سردار ان کے پاس سے گزرتے وه ان کا مذاق اڑاتے، وه کہتے اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تم پر ایک دن ہنسیں گے جیسے تم ہم پر ہنستے ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
نوح علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَامَرَّعَلَیْهِمَلَاٌمِّنْقَوْمِهٖ ﴾”جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے“ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوْامِنْهُ١ؕقَالَاِنْتَسْخَرُوْامِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے“ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّانَسْخَرُمِنْكُمْكَمَاتَسْخَرُوْنَ﴾”تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فامتثلَ أمر ربِّه، وجَعَلَ يصنع الفلك، {وكلما مرَّ عليه ملأ من قومِهِ}: ورأوا ما يصنع، {سَخِروا منه قال إن تَسْخَروا منَّا}: الآن، {فإنَّا نسخَرُ منكم كما تسخَرونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔