(آیت 39){عَذَابٌمُّقِيْمٌ:} یعنی آخرت میں جہنم کا عذاب جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
39۔ 1 اس سے مراد جہنم کا دائمی عذاب ہے، جو اس دنیوی عذاب کے بعد ان کے لئے تیار ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ تمہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ کون ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کر دے اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَسَوْفَتَعْلَمُوْنَ١ۙمَنْیَّاْتِیْهِعَذَابٌیُّخْزِیْهِوَیَحِلُّعَلَیْهِعَذَابٌمُّقِیْمٌ﴾”اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب“ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فسوفَ تعلمونَ مَن يأتيه عذابٌ يُخْزيه ويَحِلُّ عليه عذابٌ مقيمٌ}: نحنُ أم أنتم؟ وقد علموا ذلك حين حلَّ بهم العقاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔